’میں استعفیٰ نہیں دوں گی‘، بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو ممتا بنرجی کا کھلا چیلنج

’میں استعفیٰ نہیں دوں گی‘، بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو ممتا بنرجی کا کھلا چیلنج

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ترنمول کانگریس کی سپریمو ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخاب میں ہاری نہیں ہیں بلکہ 100 سیٹوں پر ووٹ کی لوٹ ہوئی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ممتا بنرجی نے کہا کہ ہماری لڑائی صرف بی جے پی سے نہیں تھی، ہمیں الیکشن کمیشن سے بھی لڑنا پڑا تھا۔ الیکشن کمیشن کا رویہ مکمل طور سے جانبدارانہ تھا۔ جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ لوک بھون جا کر استعفیٰ نہیں دیں گی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ مجھے لوک بھون کیوں جانا چاہیے؟ اگر مجھے حلف لینا ہوتا تو میں چلی جاتی۔ انہوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں استعفیٰ دے دوں گی؟ میں نہیں جاؤں گی۔ میں سڑک پر تھی اور سڑک پر ہی رہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کے بعد ای وی ایم مشینوں میں گڑبڑی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ 2 مرحلوں میں انتخاب مکمل ہونے کے بعد انہوں نے ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا اور افسران کو ٹرانسفر کرنا شروع کر دیا۔ وہ اپنی ہی پارٹی کے بیوروکریٹس کو لے آئے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ میں نے اس طرح کا انتخاب کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے 2004 میں بھی ایسا ظلم نہیں دیکھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی، راہل گاندھی، ادھو ٹھاکرے اور ہیمنت سورین سے لے کر انڈیا الائنس کے کئی رہنماؤں نے مجھ سے بات کی۔ اکھلیش یادو کل آ رہے ہیں۔ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ مجھے بوتھ سے دھکا مار کر نکالا۔
میں ایک خاتون تھی، لیکن میرے ساتھ ایسا سلوک کیسے کر سکتے ہیں۔ اگر میرے ساتھ ایسا سلوک کیا تو دیگر لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا۔
ٹی ایم سی رہنما نے پرعزم انداز میں کہا کہ انڈیا الائنس کے لیڈران ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم واپسی کریں گے، یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ اسی طرح سے وہ مہاراشٹر اور ہریانہ جیتے، لیکن ہم لوگوں نے ٹائیگر کی طرح لڑائی لڑی ہے۔ ہم لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم لوگ ایکشن لیں گے۔ اس بارے میں بعد میں حکمت عملی کا انکشاف کریں گے۔ ہم 10 اراکین پر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دیں گے، جو مختلف علاقوں کا دورہ کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ہ ہمارے دفتر پر قبضہ کر لیا گیا اور پارٹی کارکنان پر مظالم شروع ہو گئے ہیں۔ ممتا بنرجی کے مطابق کل جو ہوا وہ ایک سیاہ تاریخ ہے۔ الیکشن کمیشن مکمل طور سے جانبدار ہے۔ وہ دہلی کی قیادت میں کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کاؤنٹنگ سنٹر کو ہائی جیک کر لیا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران ممتا بنرجی نے یہ بھی کہا کہ ہمارے لوگ پوری دنیا میں ہیں۔ لوگوں کا جاننے دیں کہ کیسا ظلم و ستم ڈھایا گیا۔ اگر وہ خود جیتتے تو میں کچھ نہیں بدلتی، لیکن زبردستی ہرایا گیا۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت صرف ایک پارٹی کی حکومت چاہتی ہے۔ پوری دنیا میں یہ غلط پیغام جا رہا ہے کہ جمہوری طریقے سے لڑائی نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ہم لوگ دوبارہ واپسی کریں گے۔ بنگال میں ہم لوگوں نے مقابلہ کیا۔ ہمار مقابلہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن دونوں سے تھا۔ اگر الیکشن کمیشن بک جائے اور افسران یک طرفہ کام کرنے لگ جائے تو کیا نتائج ہوں گے؟