لیفٹیننٹ گورنرنے صحت اور دیرپائی کیلئے موٹے اناج یا ’’ شری انا ‘‘ اَپنانے کی اپیل کی
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) جموں میں منعقدہ ’’ مِلٹس فار ہیلتھ‘‘ سمینارسے خطاب کیا اور طبی کمیونٹی، سائنسدانوں، کسانوں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ موٹے اناج کو روزمرہ زِندگی کا حصہ بنائیں۔ اِس سے قبل اُنہوں نے سکاسٹ جموں کے زیراہتمام ’’ملٹس مشن‘‘ پر منعقدہ گفت و شنید سے بھی خطاب کیا۔اُنہوں نے کہا کہ جی ایم سی کا یہ سمینار محض ایک تعلیمی سرگرمی سے بڑھ کر ہے۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا، ’’یہ زمین، اس کے پانی، کسان کنبوں، دیہاتوں اور ہر شہری کی صحت کے تئیں ہماری مشترکہ ذِمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ نیچرکا پیغام واضح ہے کہ حدود سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا اور موٹے اناج ایک قابلِ اعتماد متبادل پیش کرتے ہیں۔‘‘اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ موٹے اناج اتنے ہی قدیم ہے جتنی کہ ہندوستانی تہذیب ہے ۔ باجرا، جوار، راگی، کودو، کٹکی، کنگنی اور سانوا نے نسلوں کی پرورش کی ہے۔ یہ کم پانی میں اور سخت موسمی حالات کے باوجود اُگتے ہیں اور انہیں کیمیائی اجزا ٔکی بھی کم ضرورت ہوتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے 2018 ء کی آئی سی ایم آر رِپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 2016 ء میں ہونے والی تمام اَموات میں سے 61.8 فیصد اموات غیر متعدی بیماریوں کی وجہ سے ہوئیں جبکہ 1990 ء میں یہ شرح 37.09 فیصد تھی۔ اُنہوں نے بتایا کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق 15 سے 49 برس کی عمر کی 11 فیصد خواتین اور 15 فیصد مرد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔اُنہوں نے کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ یہ محض طبی مسائل نہیں ہیں بلکہ کنبوںکی معاشی حالت، سماجی زِندگی اور قومی پیداواری صلاحیت کو بھی براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ ایسے حالات میں ہماری روایتی غذا یعنی موٹے اناج کو زیادہ شامل کرنے سے ہمیں بیماریوں کی روکتھام اور صحت مند طرز ِزِندگی کی جانب ایک اہم راہ مل سکتی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے موٹے اناج کی غذائی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں فائبر، آئرن، کیلشیم اور دیگر مائیکرو نیوٹرینٹس اجزا ٔوافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ متعدد تحقیقی مقالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ موٹے اناج کا گلیسیمک انڈکس نسبتاً کم ہوتا ہے اور یہ دِل کی صحت، کولیسٹرول پر قابو پانے اور وزن کو متوازن رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔اُنہوں نے کہا، ’’میںتحقیقی جائزوں کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ باجرا اور موٹے اناج کا اثر پورے نظام پر محیط ہے ،یہ فرد کی صحت کے تحفظ سے لے کر قدرتی ماحول کے تحفظ تک اہم کردار اَدا کر تے ہیں۔ طبی کمیونٹی کے تعاون سے ان کے فوائد کے بارے میں بیداری معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچنی چاہیے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنرنے اِس بات پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اَب بحث سے آگے بڑھ کا عملی اقدامات کرنے کا وقت آگیا ہے ۔اُنہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اَپنی فصلوں میں تنوع پیدا کریںجبکہ سائنسدانوں سے کہا کہ وہ زیادہ پیداوار دینے والی اور موسمی حالات سے مطابقت رکھنے والی اقسام تیار کریں۔اُنہوں نے کہا، ’’میں تمام ڈاکٹروں اور غذائی ماہرین سے اپیل کرتا ہوں کہ متوازن غذا میں موٹے اناج کے کردار کے بارے میں شواہد پر مبنی بیداری پیدا کریں۔ میں جموں و کشمیر کے تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پراسیس شدہ خوراک کے بجائے موٹے اناج پر مشتمل غذائیت سے بھرپور اور متوازن غذا کو ترجیح دیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ مجھے پختہ یقین ہے کہ اگر ہم سب مل کر آگے بڑھیں تو ہم ایسا جموں و کشمیر تعمیر کر سکتے ہیں جو غذائی تحفظ کو یقینی بنائے، شہریوں کی صحت کا تحفظ کرے اور پانی، مٹی اور ماحول کی بھی حفاظت کرے۔ ہمیں مل کر صحت، دیرپائی اور خوشحالی کے بیج بونے چاہئیں۔‘‘اِس موقعہ پر پدم شری ڈاکٹر خادار والی، پرنسپل جی ایم سی جموں ڈاکٹر آشوتوش گپتا، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کھیتی وراثت مشن اومیندر دت، صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار،سینئر حکام ، ماہرین،فیکلٹی ممبران اورطلبأبھی موجود تھے۔










