403سڑکوں او رپُلوں کی مستقل بحالی کیلئے 185 کرو ڑروپے کی لاگت کی تجویز
سری نگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایوان کو بتایا کہ راجوری حلقے میں حالیہ اچانک سیلاب اورلینڈ سلائیڈنگ سے ہوئے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ متاثرہ کنبوں میں اِمدادی رقم تقسیم کی گئی ہے اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی مستقل بحالی کے لئے منصوبے بھی تیار کئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ جن کے پاس ڈیزاسٹر مینجمنٹ ، رِی ہیبلٹیشن و رِی کنسٹرکشن کا قلمدان بھی ہے،نے خزان سیشن کے وقفہ سوالات کے دوران رُکن اسمبلی راجوری افتخار احمد کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہوئے نقصانات سے متعلق 149 کنبے وار معاملات ضلعی اِنتظامیہ راجوری کو موصول ہوئے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ مقررہ ایس ڈِی آر ایف کے مقررہ اصولوں کے تحت راجوری حلقے کے متاثرہ کنبوں میں 40.61 لاکھ روپے تقسیم کئے گئے ہیں۔ اِس کے علاوہ وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ سے ضلع راجوری کے لئے 2.81 کروڑ روپے جاری کئے گئے جو منظور شدہ ضوابط کے مطابق متاثرکنبوں میں تقسیم کئے جا چکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضلع راجوری میں سڑکوں اور پُلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا اِبتدائی جائزہ لیا گیا ہے اور 403 سڑکوں اور پُلوں کی مستقل بحالی کے لئے تقریباً 185 کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ تیار کیا گیا ہے۔اُنہوںنے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے کہاکہ جولائی 2026 ء میں شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کی وجہ سے ضلع راجوری میں 27.99 کروڑ روپے کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں سے 9.39 کروڑ روپے کے نقصان راجوری حلقے سے متعلق ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 132 کے وی راجوری۔درابہ ٹرانسمیشن لائن پر ائمرجنسی ریسٹوریشن سسٹم (اِی آر ایس) ٹاور نصب کرکے بجلی کی عارضی بحالی کا کام انجام دیا گیا ہے۔ اِس کی مستقل بحالی کے لئے ٹینڈرنگ کا عمل جاری ہے۔اُنہوںنے ایوان کو مزیدمطلع کہ ضلع راجوری میں بجلی کی عارضی بحالی کے لئے ایس ڈِی آر ایف کے تحت 1.25 کروڑ روپے موصول ہوئے ہیں۔ اِن میں سے 57.60 لاکھ روپے راجوری حلقے کے لئے مختص کئے گئے جبکہ باقی رقم ضلع کے دیگر متاثرہ حلقوں میں تقسیم کی گئی۔اُنہوں نے زرعی نقصانات کے حوالے سے کہا کہ محکمہ زراعت نے فیلڈ سطح پر تصدیق کے ذریعے خریف 2026 کے دوران فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔ مکئی کی فصل 416 ہیکٹر رقبے پر متاثر ہوئی جس میں 15 فیصد نقصان کا تخمینہ لگایا گیا جبکہ دھان کی فصل 101.50 ہیکٹر رقبے پر متاثر ہوئی اور اس میں 65 فیصد نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جل شکتی اور پبلک ورکس (آر اینڈ بی) محکموں نے بھی حلقے میں پانی کی فراہمی، آبپاشی اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ تمام متاثرہ سڑکوں، پُلوں، پانی کی فراہمی اور بجلی کی فراہمی کی سکیموں کو ایک ماہ کے اندر عارضی طور پر بحال کیا گیا۔ مستقل بحالی کے لئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈِی پی آر) تیار کی گئی ہیں اور وہ زیر غور ہیں۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ سیلاب کے خطرے سے دوچار بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو جہاں ضرورت ہوگی، مضبوط اور ازسرِنو ترتیب دیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ممکنہ حالات کا بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔ مستقبل میں نقصان یا تعطل کی صورت میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لئے مناسب اضافی سامان بھی دستیاب رکھا جائے گا۔اُنہوںنے تباہ شدہ مکانات، زرعی اراضی، تجارتی اِداروں اور دیگر املاک کے لئے ایس ڈِی آر ایف کے تحت معاوضے میں اضافے کے مطالبے پر کہا کہ ایس ڈِی آر ایف کے معاوضے کے ضوابط میں ترمیم مرکزی وزارتِ داخلہ کے دائرہ اِختیار میں آتا ہے۔










