ہندوستانی فوجیوں کی خدمات کا اعتراف باہمی فہم و ادراک کے فروغ میں اہم سنگ میل وزیر دفاع
سرینگر// یو این ایس// بھارت اور جمہوریہ کوریا کے درمیان تاریخی تعلقات اور کوریا جنگ کے دوران بھارتی افواج کی خدمات کو یادگار بنانے کے لیے سیول کے امجنگاک پارک میں ایک شاندار ’’وار میموریل‘‘ کا افتتاح کیا گیا۔ یہ اہم تقریب وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور جمہوریہ کوریا کے محب وطن و سابق فوجیوں کے امور کے وزیر کوون او-یول نے مشترکہ طور پر انجام دی۔یو این ایس کے مطابق یہ یادگار کوریا جنگ کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات کا حصہ ہے اور اسے دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ، دوستی اور باہمی احترام کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس یادگار کا مقصد اْن بھارتی فوجیوں کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے جنہوں نے جنگ کے دوران نہ صرف میدانِ جنگ میں بلکہ انسانی ہمدردی اور طبی امداد کے شعبے میں بھی غیر معمولی کردار ادا کیا۔تقریب کے دوران دونوں وزراء نے یادگار پر گلہائے عقیدت پیش کئے اور اْن بھارتی اہلکاروں کو یاد کیا جنہوں نے شدید گولا باری اور نامساعد حالات کے باوجود ہزاروں زخمی فوجیوں اور عام شہریوں کو طبی امداد فراہم کی۔ خاص طور پر 60 پیرا فیلڈ ایمبولینس اور کسٹوڈین فورس آف انڈیا کی خدمات کو نمایاں طور پر سراہا گیا۔بھارتی وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوریا جنگ کے دوران بھارت نے ہمیشہ امن، غیرجانبداری اور انسانی خدمت کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی کردار آج بھی بھارت اور کوریا کے تعلقات کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ’’خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کو مزید مستحکم بناتا ہے۔انہوں نے اس موقع پر جمہوریہ کوریا کی حکومت، خصوصاً وزارت برائے محب وطن و سابق فوجیوں کے امور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس یادگار کی تعمیر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، احترام اور مشترکہ تاریخ کی علامت ہے۔تقریب کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے جس کا مقصد سابق فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا اور وفود کے تبادلوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس موقع پر ایک خصوصی سوانحی کتابچہ بھی جاری کیا گیا جس میں کوریا جنگ میں بھارتی افواج کے کردار کو تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے۔یہ یادگار اسی تاریخی مقام پر تعمیر کی گئی ہے جہاں 1954 میں بھارتی کسٹوڈین فورس نے ’’ہند نگر‘‘ قائم کیا تھا، جو اْس وقت جنگی قیدیوں کی بحفاظت واپسی کے عمل کا اہم مرکز تھا۔ اس منصوبے کی تکمیل بھارت کی وزارت دفاع کے مالی تعاون سے ممکن ہوئی، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سرکاری و فوجی حکام، سابق فوجیوں، سفارتکاروں اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ مبصرین کے مطابق یہ یادگار نہ صرف تاریخی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ بھارت اور کوریا کے درمیان مستقبل کے تعاون کی ایک نئی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔










