Raees Muhammad Butt

کولگام میں لشکر طیبہ کے 5 مقامی ملی ٹنٹ مارے گئے، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

مارے گئے ملی ٹنٹ اقلیتوں، باہر کے مزدوروں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے/ڈی آئی جی جنوبی کشمیر

سرینگر/ // سامنو کولگام جھڑپ میں لشکر طیبہ سے وابستہ پانچ ملی ٹنٹ مارے گئے کا دعویٰ کرتے ہوئے ڈپیٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس جنوبی کشمیر رئیس محمد بٹ نے کہا کہ مارے گئے ملی ٹنٹ ، کشمیری پنڈتوں ،باہر کے مزدوروں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس جنوبی کشمیر رئیس محمد بٹ نے جمعہ کو کہا کہ جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع کے سامنو گاؤں میں ایک مشترکہ آپریشن میں لشکر طیبہ کے پانچ مقامی ملی ٹنٹ مارے گئے۔اس سلسلے میں پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی جنوبی کشمیر رئیس محمد بٹ نے کہا کہ کولگام پولیس اور فوج کی 34RR کی طرف سے ایک مخصوص ان پٹ کی بنیاد پر کی گئی مشترکہ کارروائی میں پانچ ملی ٹنٹ مارے گئے۔ڈی آئی جی نے مارے گئے عسکریت پسندوں کی شناخت یاسر بلال احمد بٹ عرف ہمیس ولد بلال احمد بٹ ساکنہ کے ایچ رینہ وانپوہ، دانش حمید ولد عبدالحمید،عبید احمد پڈر ولد علی محمد پڈر ساکنان چکورا شوپیاں، سمیر شیخ ولد فاروق احمد ساکنہ چک چولینڈ شوپیاں اور ہنزل یعقوب شاہ ولد محمد یعقوب شاہ ساکنہ راولپورہ شوپیاں کے بطور کی اور بتایا کہ تمام عسکریت پسندوں کا تعلق لشکر طیبہ تنظیم سے تھاڈی آئی جی نے مزید کہا کہ یہ مارے گئے جنگجو پولیس، ایس پی اوز اور عام شہریوں پر کئی حملوں میں ملوث تھے۔ وہ اقلیتی دھرنوں پر کئی حملوں میں بھی ملوث تھے۔انہوں نے بتایا کہ مارے گئے جنگجو سمیر فاروق اور دانش حمید چوٹی گامز شوپیاں کے پنڈت سونو بھٹ پر حملے میں ملوث تھے۔دانش حمید اور حنظلہ یعقوب شاہ اس سال 13 جولائی کو شوپیاں کے گاگرن میں بیرونی مزدوروں پر حملے میں ملوث تھے جس میں 3 باہری مزدور زخمی ہوئے تھے۔انہوںنے کہا کہ سمیر فاروق شیخ مقامی لوگوں کو اکسانے اور عسکریت پسندی میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے علاوہ اقلیتی دھرنوں پر حملہ کرنے میں بھی ملوث تھا۔ڈی آئی جی نے بازیابی کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مارے گئے عسکریت پسندوں سے 4 اے کے سیریز کی رائفلیں، 04 گرینیڈ اور 2 پستول برآمد ہوئے ہیں۔