واشنگٹن/یو این آئی// امریکی ویب نے امریکہ ۔ایران معاہدہ کے ممکنہ نکات کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی ٹول یا فیس کے دوبارہ کھول دیا جائے ۔ اس کے بدلے ایران پر پابندیوں میں نرمی یا ریلیف دیا جائے ۔ جنگ بندی معاملت میں ساٹھ دن کی توسیع ہو گی، جس کا اطلاق لبنان میں بھی ہوگا۔ اس عرصے کے دوران جوہری مذاکرات جاری رہیں گے ۔ معاہدے کے مطابق ایران یہ وعدہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور اپنے افزودہ یورینیم کے معاملے پر جاری تنازع کو حل کرے گا۔ سمندری تجارت اور جہازوں کی آمدورفت جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس آ جائے گی۔ اس کے بدلے میں امریکہ بھی اپنی ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ ایران کو عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ وہ ساٹھ دن تک اپنا تیل فروخت کر سکے ۔ ابتدائی معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران منجمد اثاثوں کی فوری ادائیگی چاہتا ہے جبکہ امریکا مرحلہ وار اور شرائط پوری ہونے پر دینے کا خواہاں ہے ۔ نیوزویب سائیٹ کے مطابق امریکہ اور ایران معاہدے کے مسودے پر اتفاق کر چکے ہیں، لیکن معاہدے کے نافذ ہونے سے پہلے دونوں جانب سے آخری منظوری ابھی باقی ہے ۔ صدر ٹرمپ کے امریکہ ۔ایران ڈیل کے اعلان نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو حیران کر دیا، کیونکہ انہیں اس پیش رفت کی توقع نہیں تھی۔ نیوز ویب سائت نے یہ بتایا کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا معاہدہ “اسلام آباد معاہدہ” کہا جائے گا۔










