اکتوبر میں مجوزہ بندش کے شیڈول پر نظر ثانی کی اپیل، جموںوکشمیر میں سیاحت ، فضائی رابطے او رعوامی سہولیت کے تحفظ کیلئے اقدامات پر زور
نئی دہلی// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی کنجاراپو رام موہن نائیڈو سے الگ الگ ملاقات کی اور رن وے کی بحالی کے منصوبے کے تیسرے مرحلے کے تحت طے شدہ سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی یکم سے 16 ؍اکتوبر 2026 تک مجوزہ بندش پر تشویش کا اِظہار کیا۔میٹنگوں کے دوران وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کے لئے بلا تعطل فضائی رابطے کی اہمیت پر زور دیابالخصوص خزاں کے سیاحتی موسم میں جب وادی میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔اگرچہ اُنہوں نے تسلیم کیا کہ رن وے کی مرمت کا کام آپریشنل حفاظت کے لئے ضروری ہے اور اِنڈین ایئر فورس کے آپریشنل جائزے کا مکمل احترام کیا۔تاہم، عمر عبداللہ نے منصوبے کے آخری مرحلے کے وقت پر تشویش ظاہر کی جو سیاحتی شعبے کے لئے سب سے زیادہ مصروف اوقات میں سے ایک کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔اُنہوں نے مرکزی وزراء کو بتایا کہ ری سرفیسنگ پروگرام کے پہلے مراحل کی وجہ سے اپریل سے ہی وادی کے لئے فضائی سروسز میں کمی کی جاچکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اکتوبر کے پہلے نصف میں پروازوں کی مکمل بندش سے سیاحت، ہوٹل اِنڈسٹری، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور دیگر متعلقہ شعبے متاثر ہوں گے جن پر جموں و کشمیر میں ہزاروں اَفراد کے روزگار کا انحصار ہے۔عمر عبداللہ نے وسیع تر معاشی اثرات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ بندش سے بڑے پیمانے پر سفری رُکاوٹوں اور منسوخیوں کا باعث بن سکتی ہے جس سے باشندوں اور سیاحوں دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اہم سیاحتی سیزن کے دوران کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔اُنہوں نے وزیر دفاع کے ساتھ ملاقات میں درخواست کی کہ اِنڈین ائیر فورس اور آپریشنل ضروریات سے سمجھوتہ کئے بغیر رن وے کے آخری مرحلے کے کاموں کی مدت کم کرنے یا انہیں مرحلہ وار انجام دینے کے امکان کا جائزہ لے۔
وزیراعلیٰ نے مزید درخواست کی کہ اگر سری نگر ائیر پورٹ کی مکمل بندش ناگزیر ہو، تو بندش کے دوران اونتی پورہ ایئر بیس کی آپریشنل صلاحیت کے مطابق محدود سول پروازوں کی اِجازت دی جائے تاکہ خطے کے لئے ضروری ہوائی رابطہ کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوں نے اَپنے سابقہ دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دِلایا کہ ستمبر 2010 میں رن وے کی ری سرفیسنگ کے دوران وزارتِ دفاع اور وزارت ِشہری ہوا بازی کے باہمی اِشتراک سے اونتی پورہ سے سول پروازیں کامیابی کے ساتھ چلائی گئی تھیں۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا،’’ہم رکاوٹ کو کم سے کم کرنے اور پرواز کے بنیادی شیڈول کو برقرار رکھنے کے لئے ممکنہ متبادلات پر کام کر رہے ہیں جیسا کہ ماضی میں کیا گیا تھا جب 1998 اور 2010 میں اِسی طرح کی وجوہات کی بنا پر ہوائی اڈہ بند ہوا تھا۔‘‘اُنہوں نے مرکزی وزیر شہری ہوا بازی کے ساتھ اَپنی ملاقات کے دوران تیسرے مرحلے کے وقت کا جائزہ لینے کے لئے وزارت دفاع کے ساتھ بات چیت کو آسان بنانے کے لئے مداخلت کی درخواست کی جس میں حفاظتی ضروریات سے سمجھوتہ کئے بغیر بندش کو مختصر کرنے ، مرحلہ وار یا کم ٹریول وِنڈو میں منتقل کرنے کا امکان شامل ہے۔عمر عبداللہ نے یہ بھی درخواست کی کہ وزارتِ دفاع اور اِنڈین ائیر فورس کے اشتراک سے ہنگامی متبادل انتظامات کا جائزہ لیا جائے تاکہ بندش ناگزیر رہنے کی صورت میں وادی سے مسلسل فضائی رابطہ کو یقینی بنایا جاسکے۔اُنہوںنے اِس بات پر زور دیا کہ کسی بھی متبادل آپریشنل اِنتظامات کے لئے بڑے پیمانے پر بین الاداراتی تعاون اور پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی اوراِس لئے بندش کی مقررہ مدت سے پہلے ہی اسے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔










