Rajnath-Singh

ڈی آر ڈی او کو نئی جنگی ٹکنالوجی پر توجہ دینا چاہیے :راجناتھ

نئی دہلی/یو این آئی// وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) سے تحقیق اور ترقی کے ساتھ ساتھ دفاعی آلات کے بڑے پیمانے پر پروڈکشن کے عمل میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جدید جنگ میں کامیابی یقینی بنانے کے لیے صرف تکنیکی برتری ہی کافی نہیں ہے بلکہ مسلح افواج کے پاس دفاعی آلات بھی وافر تعداد میں ہونے چاہئیں۔ حیدرآباد میں ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ لیبارٹری (ڈی آر ڈی ایل) میں ’ایڈوانسڈ ویپن سسٹم کمپلیکس‘کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان دفاعی شعبے میں جدید کاری کے ایک اہم دور سے گزر رہا ہے کیونکہ تیزی سے ہوتی تکنیکی ترقی جنگ کی نوعیت کو بدل رہی ہے ۔ ملک کے ممتاز ’میزائل کلسٹر‘کا دورہ کرنے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اس ادارے نے ہندوستان کی تکنیکی عمدگی، سائنسی صلاحیت اور تزویراتی خود مختاری کو مضبوط کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کلسٹر کئی بڑی کامیابیوں میں معاون رہا ہے اور ملک کی سائنسی صلاحیت اور اختراع کی علامت بنا ہوا ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آکاش میزائل سسٹم اور برہموس جیسے دیسی دفاعی نظاموں نے حقیقی جنگ جیسی صورتحال میں اپنی صلاحیت ثابت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کارکردگی نے عالمی دفاعی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں مقابلہ کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت کو مزید مضبوط کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ “دنیا بھر میں جنگ کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے ۔ درست نشانہ لگانے کی صلاحیت، مربوط فضائی دفاعی نظام، ہائپر سونک ہتھیار، خود مختار پلیٹ فارم، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، الیکٹرانک جنگ اور جدید سنسر ٹیکنالوجیز جدید جنگ کی نوعیت کو نئے سرے سے متعین کر رہی ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ بین الاقوامی ماحول میں غیر یقینی، تصادم اور بدلتے جیو پولیٹیکل مساوات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ایسے میں، ڈی آر ڈی او کا رول صرف تکنیکی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنے تک محدود نہیں ہے ، بلکہ اسے مستقبل کے میدان جنگ کی ضروریات کا بھی اندازہ لگانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں نہ صرف موجودہ چیلنجوں کا سامنا کرنا چاہیے ، بلکہ مستقبل کی جنگ کی ضروریات کو دھیان میں رکھتے ہوئے آج کام کرنا چاہیے ۔انہوں نے سائنسدانوں اور محققین سے مستقبل کی ان ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا جو ہندوستان کو تزویراتی برتری دلا سکیں۔