رسوئی گیس اورلفافہ بند دودھ کی قیمتوں میں اضافہ

رسوئی گیس اورلفافہ بند دودھ کی قیمتوں میں اضافہ

سری نگر//کوروناسے پیداشدہ صورتحال کے باعث معاشی ومالی بدحالی سے دوچار عام لوگوں کوطویل وقت تک مہنگائی کی مارجھیلنی پڑسکتی ہے ،کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات بشمول پیٹرول ،دیزل اوررسوئی گیس کیساتھ ساتھ اب دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جبکہ سبزیاں ،تیل خوردنی اوردیگرغذائی اجناس کی قیمتیں پہلے ہی آسمان کوچھورہی ہیں ۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں گزشتہ2 مہینوں کے دوران مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب یکم جولائی سے متعدد چیزیں مہنگی ہوئی ہیں۔ دودھ، رسوئی گیس اور بینک سروز چارج ہر چیز مہنگی ہونے جا رہی ہے۔ جولائی سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے،اوراب یکم جولائی سے رسوئی گیس سلنڈر کیلئے صارفین کو25 روپے زیادہ ادا کرنے ہوں گے۔سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 25.50 روپے فی سلنڈر اضافہ ہوا ہے۔ اب نئی دہلی میں14.2 کلو گرام وزن کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 834.50 روپے ہوگی۔جب کہ دہلی میں 19 کلوگرام سلنڈر کی قیمت میں بھی 76 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، اب اس کی قیمت 1550 روپے ہوگی۔واضح رہے کہ یکم اپریل 2021 کو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں فی سلنڈر 10 روپے کمی کی گئی تھی۔ یہ معلومات انڈیا آئل کارپوریشن نے دی تھی۔ انڈیا آئل کارپوریشن (آئی او سی) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سبسڈی اور مارکیٹ کی قیمت کے ساتھ 14.2 کلو ایل پی جی سلنڈر کی لاگت یکم اپریل کو 809 روپے ہوگی۔نئی دہلی میں فی الحال یہ819 روپے کا ہے۔لیکن اب اس کی قیمت834.50 ہو گئی ہے۔اُدھرکئی ریاستوں میں یکم جولائی امول دودھ کے داموں میں2 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ امول نے تقریباً ڈیڑھ سال بعد اپنے دودھ کے داموں میں اضافہ کیا ہے اور اس کی اطلاع کمپنی کی جانب سے بدھ کے روز دی گئی۔ تصور کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب امول دودھ مہنگا کیا گیا ہے۔یکم جولائی سے نئے دام نافذ العمل ہونے کے بعد امول گولڈ دودھ 58 روپے فی لیٹر، امول تازہ 46 روپے فی لیٹر، امول شکتی 52 روپے فی لیٹر پر دستیاب ہوگا۔ امول کے بعد دیگر کمپنیوں کی جانب سے بھی اپنی دودھ کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔غور طلب ہے کہ ان سب چیزوں کے علاوہ پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر صبح پٹرول اور ڈیزل کے نئے دام جاری کئے جاتے ہیں اور ہر تیسرے چوتھے دن ان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ صرف جون کے مہینے میں پٹرول ڈیزل کے داموں میں تقریباً 16 مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔