لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات کے 130 یوم تاسیس کے پروگرام میں شرکت کی

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ماحولیاتی شعبے کو مزید بڑھانے کے لئے جموںوکشمیر محکمہ جنگلات کے دائرہ کار میں ایکو ٹوراِزم ، ووڈ پر مبنی صنعتوں ، ٹمبر جنگلاتی مصنوعات جیسی نئی راہیںجموں وکشمیر کی ترقی میں لانے پر زور دیا۔لیفٹیننٹ گورنر راج بھون میں یہاں جموںوکشمیر محکمہ جنگلات کے’’ 130 سالہ وقف شدہ خدمات ‘‘ پروگرام کے یوم تاسیس کے موقعہ پر خطا ب کر رہے تھے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِس موقعہ پر چنار کے پودے لگانے کے بارے میں بیداری اور فروغ دینے پرمحکمہ پوسٹ آف اِنڈیا کے ذریعے تیار کردہ خصوصی کور ’’ وَن بیٹ گارڈ وَن وِلیج ‘‘ پروگرام کے آغاز پر روشنی ڈالنے والی دستاویزی فلموں کی ریلیز کا مشاہدہ کیا۔اِس دِن کے موقعہ پر گرین جموںوکشمیر مہم 2020-21 ء ، جموں وکشمیر کے جنگل ہٹس2021،جے اینڈ کے فارسٹ لا کمپینڈیم جلد اوّل۔ دوم سمیت متعدد اشاعتوں کو بھی جاری کیا گیا جس میں جنگل شعبے کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا۔اِس موقعہ پر جے اینڈ کے فارسٹ ہٹس کے لئے آن لائن بُکنگ پورٹل کا اِفتتاح بھی کیا گیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات کے کردار کو اِنتہائی اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ کارکنوں سے کہا کہ وہ ترقی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے طریقے تلاش کریں۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ لوگوں کی دہلیز تک گورننس پہنچانا یوٹی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے جن بھاگیہ داری اور قدرتی وسائل کے اِنتظام میں گائوں کی سطح کے اِداروں کو فعال شمولیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے گائوں کی پنچایتوں کی شمولیت کے ساتھ ملحقہ افارسٹیشن کے کام کرنے پر محکمہ جنگلات کی تعریف کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے جنگلات پر منحصر لوگوں کے روزگار کے تحفظ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر کے آدھے سے زیادہ رقبے کو جنگلات اور درختوں نے احاطہ کیا ہے اورلوگوں کی زندگی جنگلات سے جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ لکڑی ، چارہ اور ٹمبر خدمات کی بروقت فراہمی کی بھی توقع کرتے ہیں۔اُنہوں نے وقتی طور پر جنگل حقوق ایکٹ کومن و عن نافذ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ جنگلاتی راضی کو تجاوزات کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔لیفٹیننٹ گور نے دنیا کے شہرہ آفاق سری نگر کے ڈل جھیل میں چار چنار کی ترقی اور تحفظ کے لئے محکمہ کو اِس سلسلے میں تکنیکی مہارت حاصل کرنے کی ہدایت دی ۔اُنہوں نے فارسٹ افسران سے داچھی گام کو مزید قابل رسائی مقامی منزل بنانے کے اِمکانات کر تلاش کرنے پر زور دیتے کہا کہ وہ آن لائن طریقہ کے ذریعے اِس علاقے کو سیاحتی مقاصد کے لئے کھولیں۔اُنہوں نے پُر منڈل ائیریا میں پارک کی ترقی سے متعلق گزشتہ ہدایات کا بھی جائزہ لیا ۔ اِس کے علاوہ جنگلات کی منظوری کے عمل کو آسان بنایا۔یوٹی کے جنگلاتی شعبے کے تحت حاصل کردہ کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے جنگلات کا احاطہ بڑھانے کی کوششوں پر محکمہ جنگلات اور جموںوکشمیر اِنتظامیہ کو مبارک با د پیش کی۔اُنہوں نے کہا کہ ایک قوم کی طاقت بنیادی طور پر اس کے قدرتی وسائل پر ہے ۔ ہندوستان دُنیا کے بارہ میگا متنوع ممالک میں شامل ہے ۔جموںوکشمیر اَپنی جغرافیائی اور بلندی پر مبنی تغیرات کی وجہ سے پودوں میں بہت زیادہ تنوع کا حامل ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِس میں ملک میں جڑی بوٹیوں کی سب سے زیادہ تنوع ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ جموںوکشمیر کے پاس 42اَقسام کے جنگلات ہیں جو یوٹی کی جنگلی ماحولیاتی نظام کی تنوع کی علامت ہے اور وہ 144.16 مکعب میٹر فی یونٹ رقبے پر لکڑی کے حجم کے لحاظ سے فہرست میں ہے ۔ گزشتہ برس کے دوران جنگلات کے احاطہ میں 20 فیصد اِضافہ ہوا ہے ۔رِپورٹ کے مطابق 2019ء میں جموںوکشمیر میں جنگلات کا کل رقبہ 10.46 فیصد تھا جو 2020 میں بڑھ کر 39.66 فیصد ہو گیا ہے۔اُنہوں نے حکومت کی 2019 ء کے لئے ایک رِپورٹ نوٹ کرتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر جنگل کے احاطہ میں348 مربع کلومیٹر کے اضافے کے ساتھ پہلی پانچ ریاستوں میں شامل ہو گیا ہے جس نے جنگل کے احاطہ میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف اِکنامکس اینڈ سٹیٹسٹکس کے ذریعے لکڑی ، چارہ ، اور نان ٹمبر جنگلاتی مصنوعات جیسے فوائد کی مالیاتی قیمت تقریباً 3000 کروڑ روپے ہے جو جموںوکشمیر کی جی ڈی پی کے 2فیصد کے قریب ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اپنی ترقی کی صلاحیت کو اِستعمال کرتے ہوئے جنگلاتی شعبہ بھی یوٹی کی جی ڈی پی میں اَپنی شراکت میں اضافہ کرسکتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے ووڈ پرمبنی صنعتوں کی ضرورت پر زور دیا جو روزگار مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت میں نمایاں کردار اَدا کرتی ہے ۔ اُنہوں نے مزیدکہا کہ ووڈ پر مبنی صنعت کو منظم کرتے ہوئے کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانا محکمہ کی ترجیح ہونی چاہیئے۔لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات کے شروع کردہ مختلف اِقدامات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔اُنہوں نے کہا،’’ مجھے یقین ہے کہ 130لاکھ پودے لگانے کے ہدف کے ساتھ ’’ گرین جموں وکشمیر مہم ‘‘ اِس سمیت میں نمایاں کردا ر ادا کرے گی ۔130 لاکھ کا یہ ہدف محکمہ کی 130 سالہ وقف شدہ خدمات کی تکمیل کو بھی نشان زد کرے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے ’’ ایک بیٹ گارڈ ون وِلیج ‘‘ کے نئے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے سبز رنگ کے احاطہ کو بڑھاوا دینے میں بہت فروغ ملے گا۔اُنہوںنے جموںاور سری نگر شہروںمیں ’’ سٹی بائیودائیورسٹی اِنڈکس ‘‘ کی ترقی کو بھی ضروری قرار دیا۔ اَپنے اختتامی کلمات میں لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات کی خدمات کے 130 سال مکمل ہونے پر ان کی تعریف کی اور اہلکاروں کو جموںوکشمیر کے جنگلاتی دولت کے تحفظ اور ترقی میں ان کی کوششوں میں کامیابی کی تمنا کی ۔چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے اِپنے خطاب میں محکمہ جنگلات کے ذریعے لوگوں کے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔کمشنر سیکرٹری محکمہ جنگلات و ماحولیات سنجیو ورما نے اِپنے خیالات کا اِظہارکرتے ہوئے محکمہ جنگلات کی جانب سے جموںوکشمیر میںہرے احاطہ کے تحفظ اور ان کے بڑھانے کے لئے اُٹھائے گئے مختلف اقدامات کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا۔پرنسپل چیف کنزرویٹر جنگلات اور ایف او ایف ایف جے اینڈ کے ڈاکٹر موہت گیرا نے اَپنے استقبالیہ خطبہ میں محکمہ جنگلات کے کام کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی ۔اُنہوں نے بتایا کہ اَب جنگل کی 29ہٹس عوام کے لئے کھلی ہیں اور 20مزید جلد کھولی جائیںگی۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری نتیشور کمار ، ڈائریکٹر پوسٹل سروسز گوراو سری واستو ، ایڈیشنل چیف کنزرویٹر جنگلات ( سینٹرل) ٹی ربی کمار،ایڈیشنل پرنسپل چیف کنزرویٹر جنگلات سرویش رائے اور دیگر اعلیٰ اَفسران موجود تھے۔