سری نگر//کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے امید کا اظہار کیا کہ مرکز جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے انتخابات سے قبل ریاست کی بحالی کے مطالبے کو مسترد نہیں کرے گا اور یونین ٹریٹری کا درجہ قابل قبول ’’کسی کو بھی نہیں ہے۔کے این ایس کے مطابق جمعرات یعنی 24 جون کو دلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک اہم ملاقات کرنے والے جموں کشمیر کی 14 رکنی وفد کا حصہ رہنے والے غلام نبی آزاد نے کہا کہ بات چیت کا عمل صف ایک شروعات تھی لیکن اب یہ مرکز تک ہے کہ وہ کس طرح سابقہ ریاست میں اعتماد کی فضا قائم کرسکتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ہر اہم بات یہ تھی کہ کل جماعتی اجلاس میں ہر ایک لیڈر کو صاف صاف بات کرنے کو کہا گیا۔ میرے خیال میں تمام رہنماؤں نے بڑی صداقت سے بات کی اور اہم بات یہ ہے کہ کسی کے ساتھ ناخوشگوار طریقے سے بات نہیں گئی۔سابق وزیر اعلی نے کہا کہ انہوں نے اجلاس میں یہ واضح کردیا ہے کہ جموں وکشمیر کی مرکزی علاقہ کی حیثیت قابل قبول نہیں ہے جس کے لئے ہر سیاسی رہنما نے انکی حمایت کی اور قابل ذکر بات یہ تھی کہ آزاد کے علاوہ کل جماعتی اجلاس میں جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین دیگر سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ ، عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی بھی شامل تھی۔ ایک قومی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو انٹریو کے دوران سابق اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم نے اپنی بات واضح کردی ہے کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ پہلے ریاست کا درجہ بحال کیا جائے اور پھر انتخابات کروائے جائیں تاہم انہوں نے کہا کہ بلاشبہ (مرکز) نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ موقف یہ تھا کہ پہلے مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے اور پھر اس کے بعد انتخابات ہونے چاہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا امکانات ہیں کہ مرکز ریاست کے پہلے مطالبے سے اتفاق کرتا ہے تو آزاد نے کہا کہ وہ پر امید ہیں اورکم از کم انہوں نے نہیں تو نہیں کہا۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اب حالات بدل گئے ہیں،وزیر اعظم نے جتنا وقت دیا ،جو الفاظ انہوں نے استعمال کئے اور کہا آپ ماضی کو بھول جائیں جبکہ اس میٹنگ میں خدشات اور امور کو سمجھنے کا ایک بہترین موقع فراہم ہوا اور میٹنگ تقریباً 3 گھنٹے تک جاری رہی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر کو دو مشترکہ خطوں میں تقسیم کرنے اور اس کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے تقریبا دو سال بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اس وقت کے سابقہ سیاسی رہنماؤں سے دلی میں بات چیت کی اور کہا کہ مرکز کی ترجیح یہ ہے کہ وہاں پر نچلی سطح کی جمہوریت کو مستحکم کرنا ہے جس کے لئے حد بندی کمشن اپنا کام مکمل کریں تاکہ وہاں پر انتخابات ہوسکے جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ جو اس اجلاس میں موجود تھے نے بھی ٹویٹ کیا تھا کہ کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں کئے گئے وعدے کے مطابق کہ ریاست کی بحالی کے سلسلے میں حد بندی کی مشق اور جموں کشمیر میں پرامن انتخابات کا انعقاد ایک اہم سنگ میل ہوگا۔کے این ایس کے مطابق ایک سوال کے جواب میں کہ کیا اجلاس میں ریاست کے سیاست دانوں کو بلانا کیا مرکز کی پالیسی میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے تو آزاد نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کوئی پالیسی تھی کیوں کہ میں کسی بھی پالیسی پر نہیں آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ہٹانا ، ریاست کو ڈون گریڈ کرنا اور اپوزیشن رہنماؤں کی سلامتی اور گھروں میں نظر بند کرنا اور اپوزیشن لیڈروں کے گھر چھینا کوئی پالیسی نہیں ہوسکتی ہے اوراس طرح (سنٹر) کے پاس کوئی پالیسی نہیں تھی جس کی وجہ سے ریاست کو سب سے زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ ایک سسٹم کو ہٹاتے ہیں تو اس کی جگہ دوسرے سسٹم نہیں آتا ہے، آپ نے وزیروں کو ہٹایا ، آپ نے حکومت تحلیل کردی ، آپ نے ایم ایل ایز کو ہٹا دیا۔انہوں نے کہا کہ کیا افسران وزرا کی جگہ لے سکتے ہیں ، کیا افسران ممبران اسمبلی کی جگہ لے سکتے ہیں ، کیا افسران جاسکتے ہیں اور عوامی جلسوں میں شریک ہوسکتے ہیں ، کیا افسران روزانہ کی بنیاد پر پہنچ سکتے ہیں اور 10 سے 12 گھنٹے تک دستیاب رہ سکتے ہیں؟ جواب نہیں ہے۔ پورا نظام مفلوج بنا دیا گیا تھا اور اس کی جگہ کسی چیز کی مدد نہیں کی گئی تھی۔جموں وکشمیر کی خصوصی پوزشن آرٹیکل 370 کی منسوخی سے متعلق کانگریس پارٹی کے موقف کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ کہتے ہوئے دو باتیں شروع کیں کہ 5اگست کو ریاست کو ڈون گریڈ کرنا اور ریاست جموں و کشمیر اور لداخ کے دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنا کے علاؤہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا،لہذا چونکہ (آرٹیکل 370) سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ، لہذا ہم اس پر تذکرہ نہیں کریں گے ، اور ظاہر ہے کہ ریاست کا معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے نہیں ہے اور اسی وجہ سے ہم اس کے لئے مانگ رہے ہیںکے این ایس کے مطابق کہ آزاد نے وادی میں کشمیری پنڈتوں کی بحالی کے لئے منعقدہ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ اس مقصد کو یقینی بنانے کے لئے آگے بڑھیں۔










