عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے سے حفاظتی صورتحال ٹھیک ہوگی: جی او سی چنار کارپس

سرینگر //سرینگر میں مقیم 15کارپس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹینٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہاہے کہ جنگجوئوں کی تعداد کم ہونے سے حفاظتی صورتحال ٹھیک نہیں ہوتی جب تک نہ عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کو ختم نہیں کیاجاتا۔ کے این ایس کے مطابق رنگریٹ سرینگر میں جیک لائی ریجمنٹ پاسنگ آوٹ پریڈ کی تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے لیفٹینٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہاکہ کچھ لوگ جو آزادی کا شوق رکھتے ہیں، انہیں حدمتارکہ اور پاکستان و افغانستان کی سرحدوں پر کیا صورتحال ہے، غور کرنا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ ’’Terrorismکے دو حصہ ہیں، ایکTerrorہوتا ہے اور دوسراismہوتا ہے، وہ جوismہے، جو Nexsusہے اور جو اس پیسے کے اوپر زندہ رہتا ہے، و ہ بھی چل رہاہے، جب تک ہم اس ism کو نہیں توڑے گے ، وہ آج ایک سال، دو سال ، یا تین سال کاکام نہیں ہے، کئی سالوں کا کام ہے‘‘۔انہوںنے کہاکہ ’’ٹیرر کا نمبر کم ہونے سے حفاظی صورتحال ٹھیک نہیں ہوتی ہے جب یہ یہ ازم ،جو یہ چلانے والا نیٹ ورک ہے جب تک یہ ختم نہیں ہوگا تب تک صورتحال ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ’30سال قبل جو کچھ بھی ہوا، وہ کشمیری لوگوں کیلئے ایک عظیم بحران تھا، ہاں!ایسا ممکن ہے کہ افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلاء کے بعد کشمیر میں چند عسکر یت پسند دھکیلے جاسکتے ہیں، لیکن اب 30برس قبل والی صورتحال نہیں ہے‘۔ انہوںنے کہاکہ ’ہم حد متارکہ یااندرون ملک پر کسی بھی چلینج کا سامنا اور ناکام بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہے‘۔جی او سی نے کہاکہ فوج کیلئے ہمیشہ پہلی ترجیح روایتی تربیت ہے ، پھر اس کے بعد انسداد شورش آپریشن یا دراندازی مخالف آپریشن ہے ، جب بھی پولیس کو کسی آپریشن کیلئے ہماری ضرورت پڑے گی، ہم ان کے ساتھ شامل ہونگے‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ’ہماری نظر دشمنوں پر ہے نہ کہ جنگبندی پر، ہم کسی بھی صورتحال کاسامنا کرنے کیلئے تیار ہے اور ہر سطح پر جواب دینے کے اہل ہے‘۔ نئی دہلی اور جموںوکشمیر کے لیڈروں کے مابین ہونے والی بات چیت کا کشمیر کی صورتحال پرپڑنے والے اثر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں جی او سی پانڈے نے کہاکہ حفاظتی صورتحال اور سیاسی عمل دو الگ الگ معاملے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مذاکرات ایک لگاتار ہونے والا عمل ہے جبکہ حفاظتی صورتحال ایک الگ معاملہ ہے جو مختلف سطح پر نمٹا جاتا ہے۔ کشمیر میں عسکریت پسندی پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں جی او سی نے کہاکہ جب تک ملیٹنٹوں کا نیٹ ورک ختم نہیں ہوتا تب تک سیکورٹی گرڈ کی ضرورت ہے تاکہ عوام نکل کر پرامن ماحول میں زندگی گزار سکے۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر میں امسال تک حد متارکہ پر اس وقت صفر دراندازی ہے لیکن لانچنگ پیڈ ابھی بھی سرگرم ہے، جو کچھ بھی حدمتارکہ پر ہوگا، اسے موثر اور پیشہ وارانہ طریقوں سے نمٹا جائیگا۔ انہوںنے کہاکہ پہلے نارکو ماڈیول کے تحت پیسے آتے تھے لیکن اب منشیات بھی آرہی ہے اور جموںوکشمیر پولیس منشیات کو سمگلنگ سے اچھی طرح سے نمٹ رہی ہے اور بھاری مقدار میں نشیلی ادویات ضبط کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ والدین، سول سوسائٹی اور اساتذہ کیلئے یہ موزوں وقت ہے کہ وہ بچوں کو منشیات کی لت سے دور رکھیں۔