NEET پرچہ لیک : امتحان سے پہلے ہی سوالات وائرل

نئی دہلی/ایجنسیز// نیٹ امتحان کے پیپر لیک معاملہ نے اب سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کی جانچ میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ امتحان سے پہلے ہی کثیر سوالات مختلف طلبہ تک پہنچا دیے گئے تھے۔ایس او جی کے مطابق بعض طلبہ کو امتحان کے تقریباً 600 نمبر کے سوالات پہلے ہی دستیاب تھے۔ یہ سوالات مبینہ طور پر واٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے پھیلائے گئے۔ جانچ کے دوران کئی ایسی دستاویزات بھی ملی ہیں جن پر ’فارورڈ مینی ٹائم‘ جیسی عبارت درج تھی، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مواد بڑی تعداد میں آگے بھیجا گیا۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مبینہ سوالات ایک فوٹو کاپی دکان کے ذریعے طلبہ تک پہنچائے گئے۔ پولیس کے مطابق طلبہ کو فراہم دستاویزات میں فزکس، کیمسٹری اور حیاتیات کے 300 سے زائد سوالات شامل تھے۔ یہ سوالات ہاتھ سے تحریر شدہ بتائے جا رہے ہیں۔جانچ ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے تقریباً 150 سوالات اصل امتحان میں شامل تھے۔ چونکہ ہر سوال کیلئے چار نمبر مقرر تھے، اس لیے مجموعی طور پر تقریباً 600 نمبر کے سوالات مماثل پائے گئے۔ اس انکشاف کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ مبینہ ’کوشچن بینک‘ سب سے پہلے چورو کے ایک نوجوان کی جانب سے بھیجا گیا تھا، جو اس وقت کیرالا کے ایک طبی کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ بتایا گیا کہ وہاں سے یہ مواد سیکر کے ایک پی جی آپریٹر تک پہنچا، جس کے بعد مختلف طلبہ میں اسے تقسیم کیا گیا اور پھر یہ تیزی سے وائرل ہو گیا۔