پارلیمنٹ میں پیش اعداد و شمار کے مطابق رجحان گزشتہ برسوں سے مستحکم
سرینگر//یو این ایس / ایک حوصلہ افزا پیش رفت میں پارلیمنٹ میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں خواتین میں پائے جانے والے مختلف اقسام کے کینسر کی شرح ملک کے بیشتر حصوں کے مقابلے میں کم ترین سطح پر برقرار ہے۔یہ اعداد و شمار 3 فروری 2026 کو راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر مملکت برائے صحت پرتاپ رائو جادوکی جانب سے پیش کیے گئے، جو نیشل کینسر راجسٹری پروگرام کے تحت نیشنل سینٹر فار ڈئزیز اینڈ انفارمیٹکس ریسرچ کی مرتب کردہ رپورٹ پر مبنی ہیں۔سرکاری تخمینوں کے مطابق سال 2025 کے دوران جموں و کشمیر میں خواتین میں بریسٹ کینسر کے 938، سروائیکل کینسر کے 73 اور اووریئن کینسر کے 383 نئے کیس سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس بڑے صوبوں جیسے اتر پردیش میں اسی عرصے کے دوران بریسٹ کینسر کے تقریباً 44,800 اور سروائیکل کینسر کے 11,500 سے زائد کیس متوقع ہیں۔یو این ایس کے مطابق اگرچہ جموں و کشمیر کی آبادی نسبتاً کم ہے، تاہم فی کس شرح کے اعتبار سے بھی یہ خطہ نسبتاً بہتر صورتحال میں نظر آتا ہے۔ خاص طور پر سروائیکل کینسر کے کیس گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تقریباً 70 سے 73 سالانہ کے درمیان رہے ہیں، جو ایک مستحکم رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔اموات کے تخمینوں کے مطابق 2025 میں جموں و کشمیر میں بریسٹ کینسر سے تقریباً 403، سروائیکل کینسر سے 39 اور اووریئن کینسر سے 234 اموات متوقع ہیں۔ یہ اعداد و شمار اگرچہ تشویشناک ہیں لیکن ملک کے کئی دیگر علاقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔2021 سے 2025 کے درمیان بریسٹ کینسر کے کیسوںمیں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو 908 سے بڑھ کر 938 تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بہت سست رفتار ہے اور کئی ریاستوں کے مقابلے میں کم ہے۔ کیرالہ اور راجستھان میں اسی عرصے کے دوران کیسوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں کم شرح کی ممکنہ وجوہات میں مقامی غذائی عادات، طرزِ زندگی اور آبادی کی نسبتاً کم اوسط عمر شامل ہو سکتی ہے، تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بروقت تشخیص اور اسکریننگ کو مزید فروغ دینا ضروری ہے۔مرکزی حکومت نے ملک بھر میں کینسر کی تشخیص اور علاج کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ’’قومی پروگرام برائے انسداد و کنٹرولِ غیر متعدی امراض‘‘کے تحت ملک بھر میں 770 ڈسٹرکٹ این سی ڈی کلینکس، 364 ڈسٹرکٹ ڈے کیئر کینسر سینٹر اور 6410 کمیونٹی ہیلتھ سینٹروںمیں این سی ڈی کلینکس قائم کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ 30 سال سے زائد عمر کے افراد کیلئے ملک گیر اسکریننگ پروگرام بھی چلایا جا رہا ہے جس کے تحت کینسر، ذیابیطس اور بلڈ پریشر سمیت دیگر امراض کی ابتدائی جانچ کی جاتی ہے۔ خواتین کیلئے اس پروگرام کے ذریعے بریسٹ، سروائیکل اور اورل کینسر کی اسکریننگ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔صحت کے ماہرین کے مطابق اگرچہ جموں و کشمیر میں خواتین میں کینسر کی شرح نسبتاً کم ہے، تاہم اس رجحان کو برقرار رکھنے کیلئے عوامی آگاہی، ٹیکہ کاری اور بروقت اسکریننگ کو مزید فروغ دینا ضروری ہے۔ خاص طور پر سروائیکل کینسر کو ایچ پی وی ٹیکہ اور باقاعدہ طبی معائنے کے ذریعے بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کیلئے یہ اعداد و شمار ایک جانب اطمینان کا باعث ہیں تو دوسری جانب اس بات کی یاد دہانی بھی ہیں کہ صحت کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری اور آگاہی مہمات جاری رکھنا ناگزیر ہے۔










