ہسپتال کے ساتھ تعمیر کے گئے کنٹین پر چھ برسوں سے کام ٹھپ ، مریضوں کو مشکلات کا سامنا
سرینگر//گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں سالانہ 6لاکھ سے زائد مریض علاج و معالجہ کیلئے پہنچ رہے ہیں ۔ یہ میڈیکل کالج جنوبی کشمیر میں سب سے بڑا صحت مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ خطہ پیر پنچال کے مریضوں کیلئے بھی ایک امید کی کرن ہے ۔ تاہم میڈیکل کالج کے ساتھ قائم کنٹین چھ سال سے نامکمل ہے جس کی وجہ سے یہاں آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے نمائندے امان ملک کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں مریضوں کا کافی رش رہتا ہے کیونکہ یہ میڈیکل کالج جنوبی کشمیر کا نہ صرف پہلا میڈیکل کالج ہے بلکہ سب سے بڑا صحت مرکز بھی ہے ۔ اس میڈیکل کالج میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ علاج و معالجہ کیلئے آتے ہیں اور سالانہ 6لاکھ سے زائد مریض جی ایم سی اننت ناگ میں علاج کیلئے آتے ہیں یہ کالج نہ صرف جنوبی کشمیر کے لوگوں کو طبی سہولیت فراہم کرتا ہے بلکہ خطہ پیر پنچال کے لوگ بھی کافی تعداد میں یہاں آکر علاج کراتے ہیں ۔ تاہم میڈیکل کالج کے ساتھ ہی 2017میں ایک کنٹین تعمیر کیا گیا تھا اور اس کی دوسری منزل تک تعمیراتی کام پہنچنے کے بعد اس پر اچانک سے کام بند کردیا گیا اور تب سے یہ نامکمل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے خاص کر دور دراز علاقوں سے علاج و معالجہ کیلئے آنے والے لوگوں کو دقتوں کا سامنا رہتا ہے ۔ اس ضمن میں وی او آئی نے جب میڈیکل سپر انٹنڈنٹ کے ساتھ بات کی تو انہوںنے بتایا کہ اگرچہ مجھے زیادہ وقت یہاں پر تعینات ہونے میں نہیں ہوا تاہم مجھے پتہ چلا ہے کہ جس وقت یہ کنٹین تعمیر کیا گیا اُس وقت کے ٹھیکدار نے اس کی تعمیر میں اینٹ کے بجائے سیمنٹ بلاکس کا استعمال کیا تھا جس کی وجہ سے یہ غیر محفوظ تصور کیا گیا اور اب اس کی دوبارہ تعمیر کے لئے متعلقہ محکمہ نے منظوری دی ہے اور جلد ہی اس پر دوبارہ کام شروع کیا جائے گا اور اس کو مریضوں کیلئے کھول دیاجائے گا۔










