چیف سیکرٹری نے جموں وکشمیر میں پی ایم آئی ایس کے اثرات اور عمل آوری کا جائزہ لیا

جموں// چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے جموںوکشمیر میں وزیر اعظم کی انٹرن شپ سکیم ( پی ایم آئی ایس ) کی عمل آوری کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ طلب کی اور یونین ٹیریٹری میں اس کی رسائی اور اثر کو بڑھانے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا۔ میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم،سیکرٹری محکمہ ایمپلائمنٹ و سکل ڈیولپمنٹ، منیجنگ ڈائریکٹرسکل ڈیولپمنٹ مشن اوردیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔ڈائریکٹر مرکزی وزارتِ کارپوریٹ امور پی ایم آئی ایس نے بذریعہ ویڈیو لنک میٹنگ میں حصہ لیا۔چیف سیکرٹری نے نامورکمپنیوں میں منظم انٹرن شپ کے مواقع فراہم کر کے نوجوانوں کے روزگار کو بہتر بنانے میں منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ پی ایم آئی ایس جومرکزی بجٹ 2024-25 کے تحت شروع کیا گیا، 6 سے 9 ماہ کی انٹرن شپ فراہم کرتاہے جس میں ماہانہ 9,000 روپے وظیفہ اور ایک مرتبہ 6,000 روپے کی اضافی گرانٹ دی جاتی ہے ۔اِس طرح نوجوان اَفراد کو قیمتی صنعتی تجربہ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں رجسٹریشن کے حوالے سے حوصلہ افزا ردِّعمل دیکھنے میں آیا ہے جس میں زائد اَز 4,400 نوجوانوں نے پورٹل پر رجسٹر کیا اور اَب تک 2,800 سے زیادہ پروفائلز مکمل ہو چکی ہیں۔ تاہم، یونین ٹیریٹری میں اس وقت صرف 68 انٹرن شپ مواقع دستیاب ہیں حالاں کہ رجسٹریشن کے لحاظ سے جموںوکشمیر سب سے آگے ریاستوں میں شامل ہے۔چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ رجسٹریشن اور دستیاب مواقع کے درمیان خلا کو پُر کیا جائے اور اس سلسلے میں وزارت کے فعال کردار کے ساتھ صنعتوں سے مضبوط روابط قائم کئے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی شراکت یہ یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ رجسٹرڈ نوجوان سکیم کے تحت بامعنی طور پر شامل ہوں۔اُنہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ رجسٹریشن کی مہم کو بڑے پیمانے پر وسعت دی جائے اور جموں و کشمیر کے تمام اَضلاع میں کم از کم 2 لاکھ رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مقصد تعلیمی اِداروں، ایمپلائمنٹ سینٹروں اور نچلی سطح تک رَسائی کے طریقہ کار پر مشتمل مشن موڈ کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔اُنہوں نے یونین ٹیریٹری میں بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کی محدود موجودگی کے پیش نظر پورے ملک کی ریاستوں اور یوٹیز میں نوجوانوں کے لئے انٹرن شپ مواقع میں کئی گنا بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے وزارتِ کارپوریٹ امور کے ساتھ فعال رابطہ قائم کرنے کی ہدایت دی تاکہ آنے والے دنوں میں انٹرن شپ کے مواقع کی تعداد کم از کم 1,000 تک بڑھائی جا سکے اور طلب و دستیابی کے درمیان موجودہ فرق کو کم کیا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے ہدایت دی کہ پی ایم آئی ایس رجسٹریشن کو ادارہ جاتی میکانزم کے ساتھ مربوط کیا جائے جس میں آئی ٹی آئیز، پولی تکنیک اور کالج شامل ہیں تاکہ اہل نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ کوریج کو یقینی بنایا جاسکے ۔ اُنہوں نے رجسٹریشن کی سہولیت کے لئے ضلع روزگار و کونسلنگ مراکز، کامن سروس سینٹروں اور پلیس منٹ سیلز کی فعال شمولیت پر بھی زور دیا۔سیکر ٹری سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کمار راجیو رنجن نے میٹنگ کو 100 دِن کے روڈ میپ سے آگاہ کیا جس کا مقصد رجسٹریشن کو نمایاں طور پر بڑھانا او رنتائج کو بہتر بنانا ہے ۔ اِس منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں 20,000 رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے لئے کیمپس ڈرائیوز، ہیلپ ڈیسک کا قیام، عوامی بیداری مہمات اور دُور دراز علاقوں میں موبائل رجسٹریشن یونٹوں کی تعیناتی شامل ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ حکمت عملی کا ایک اہم حصہ مشن یووا کے ساتھ اِشتراک پر مبنی ہے تاکہ نوجوانوں کے وسیع ڈیٹا بیس اور نچلی سطح کے نیٹ ورک کا فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ مشن یووا کے تحت 4.73 لاکھ سے زیادہ ’’کام کرنے کے خواہشمند‘‘ نوجوانوں کی پہلے ہی شناخت کی جا چکی ہے اور تقریباً 2,000 یووا دوتوں کو تمام اضلاع میں گھر گھر بیداری اور رجسٹریشن مہم چلانے کے لئے متحرک کیا جائے گا۔اُنہوں نے مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ باقاعدگی سے جائزہ لیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے پیش رفت کی حقیقی وقت میں نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی رُکاوٹ کو بروقت حل کے لئے فوری طور پر اعلیٰ سطح پر پیش کیا جائے۔چیف سیکرٹری نے سکیم کی تبدیلی صلاحیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم آئی ایس تعلیم اور روزگار کے درمیان خلا کو پُر کرنے میں کلیدی کردار اَدا کر سکتی ہے اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو جدید روزگار کے تقاضوں کے لئے تیار کر سکتی ہے۔