کشمیری کاریگروں کے ’ جادوئی ہاتھوں‘ سے بنائے گئے عالمی معیار کے دست کاری کا مشاہدہ کرنے کیلئے لوگوں کو کشمیر ہاٹ آنے کی دعوت
سری نگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کشمیر کے دست کاری شعبے کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم پیش رفت کے طور پر کشمیر ہاٹ میںمحکمہ ہینڈی کرافٹس و ہینڈ لوم کے جاری ’سولفل کشمیر‘ برانڈ پروموشن مہم کے تحت’ اَپنے کاریگر کو جانیں‘ کا اِفتتاح کیا۔اُنہوں نے جی آئی ٹیسٹنگ لیب، جائنٹ ایل اِی ڈِی ویڈیو والز کا بھی اِفتتاح کیا اور آئی آئی سی ٹی سری نگر کی تیار کردہ انتہائی جدید فائبر اینالیسس ایکوپمنٹ اور ڈیزائن این ویو سافٹ ویئر کا بھی آغاز کیا۔اِس موقعہ پر نائب وزیراعلیٰ سریندرکمار چودھری، وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، رُکن اسمبلی زڈی بل تنویر صادق، ممبر اسمبلی حضرت بل سلمان ساگر، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وِکرم جیت سنگھ اور محکمہ صنعت وحرفت کے دیگر سینئر اَفسران بھی موجود تھے۔سولفل کشمیر مہم کا یہ تازہ ایڈیشن گزشتہ ایک برس میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو مزید آگے بڑھاتا ہے جو وزیراعلیٰ کی بجٹ تقریر کے دوران کئے گئے وعدوں کے مطابق ہے جس کا مقصد ’برانڈ جموں و کشمیر‘ کو مضبوط بنانا اور خطے کے شاندارہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم ورثے کو فروغ دینا ہے۔وزیراعلیٰ نے کشمیر ہاٹ میں نصب جائنٹ ایل اِی ڈِی ویڈیو وال اور ’ اَپنے کاریگر کو جانیں‘ پروگرام کا اِفتتاح کیا۔ اُنہوںنے محکمہ کے نئے اقدام ’’ٹرائی یور ہینڈز‘ سیکشن کے تحت لائیو ڈیموز کا بھی معائینہ کیاجو دیکھنے والوں اور سیاحوں کو ایک عمیق تجربہ فراہم کرنے کے لئے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ وہ مشاہدہ کرسکیں کہ کاریگر کس محنت سے یہ نایاب مصنوعات تیار کرتے ہیں۔اُنہوںنے خود پشمینہ کی ہینڈویونگ میں اِستعمال ہونے والے دھاگے کی تیاری کی مشق بھی کی جسے ایک اِنتہائی محنت طلب عمل قرار دیا جاتا ہے۔ وہ سکول آف ڈیزائنز اور سی ڈِی آئی کی جانب سے پیش کئے گئے ماڈلز سے خاص طور پر متاثر ہوئے۔ بعد میں وزیراعلیٰ نے مرکزی نمائش گیلری کا دورہ کیا جہاں 30 ڈسپلے کم سیل کاؤنٹرز قائم کئے گئے ہیں جو ہاتھ سے تیار کردہ مستند مصنوعات پیش کرتے ہیں۔ اُنہوں نے شلپ گرو، نیشنل اور جموں و کشمیر ایوارڈ یافتہ دست کاروں سے ملاقات کے دوران اس اقدام کو سراہا اور نمائش میں موجود شاندار دستکاری کی سراہناکی۔
اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اَقدام ’برانڈ جموں و کشمیر‘ کے فروغ دینے اور دست کاری شعبے کی نمائش کو بڑھانے میں ایک اہم قدم ہے ۔ اُنہوں نے اِس بات پر زو ردیا کہ کاریگر خطے کی ثقافتی شناخت کے محافظ ہیں اور اِس پروگرام کا مقصد انہیں براہ راست مارکیٹ تک رَسائی فراہم کرنا، ان کے کام کی مناسب قیمت کو یقینی بنانا اور روایتی مصنوعات کی صداقت کو مضبوط بنانا ہے۔اُنہوںنے اِس نوعیت کی تقریبات کو زیادہ تسلسل اور طویل دورانیے کے ساتھ منعقد کرنے پر زور دیا تاکہ جموں و کشمیر کے ’سنہری ہاتھوں‘ اور ثقافتی ورثے کو زیادہ سے زیادہ سامعین تک پہنچنے کا موقعہ ملے۔ اُنہوں نے محکمہ ہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم کو ہدایت دی کہ ’ اَپنے کاریگر کو جانیں‘ پروگرام کو باقاعدہ اِدارہ جاتی شکل دی جائے اور اِس کے موجودہ ایڈیشن کو مزید وسعت دے کر اس کے اثرات اور رَسائی کو بڑھایا جائے۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے لوگوں پر زور دیاہے کہ وہ کشمیر ہاٹ کا دورہ کریں اور کشمیری دستکاروں کے ’جادوئی ہاتھوں‘ سے تیار کردہ عالمی معیار کے فن پارے اور دستکاری کا تجربہ کریں۔اُنہوں نے کہا کہ اِس طرح کے دوروں سے نہ صرف لوگوں کو جموں و کشمیر کے بھرپور ثقافتی ورثے کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے بلکہ ہاتھ سے تیار کردہ مستند مصنوعات کی خریداری کی حوصلہ اَفزائی کرکے مقامی کاریگروں کی براہ راست مدد بھی ہوتی ہے۔نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری جن کے پاس صنعت و حرفت کا قلمدان بھی ہیں، نے اِس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کو مختلف مقامات پر جاری رکھے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ عوامی رَسائی، خریداروں اور سیاحوں کی تعداد میں اِضافہ اور کاریگر و بُنکر کمیونٹی کی سماجی و معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔توقع ہے کہ اس تقریب کو لوگوں، سیاحوں اور شراکت داروں کی جانب سے زبردست ردِّعمل دیکھنے کو ملے گا جوجموں و کشمیر کو عالمی سطح پر اعلیٰ معیار کی ہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم مصنوعات کے مرکز کے طور پر اُجاگر کرنے کی جاری کوششوں میں ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔










