جموں//چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں یو ٹی گیر 100 دن نشہ مکت جموں و کشمیر مہم کے نفاذ کا جائیزہ لیا گیا ، جس کا آغاز لفٹینٹ گورنر نے 11 اپریل کو ایم اے سٹیڈیم جموں سے کیا تھا ۔ میٹنگ میں حکومت کی طرف سے ضلعی سرپرست کے طور پر نامزد تمام انتظامی سیکریٹریوں ، ڈویژنل کمشنر جموں /کشمیر ، ڈائریکٹر اطلاعات ، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں /کشمیر ، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ سماجی بہبود اور صحت کے محکموں کے ایچ او ڈیز نے شرکت کی ۔ اس پہل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ اس مہم کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کریں جو جموں و کشمیر کے ہر گھر تک پہنچ جائے ۔ انہوں نے تین ماہ کی مہم کی مدت کے دوران عمل درآمد کیلئے ہر محکمے اور ضلع کے ذریعے ایک مضبوط اور نتیجہ خیز نفاذ کے منصوبے کی ضرورت پر زور دیا ۔ تفصیلی جائیزہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے مہم کے دوران منصوبہ بند سرگرمیوں کے اپنے کلینڈر کے بارے میں ہر ضلع کے سرپرست اور ڈپٹی کمشنر سے معلومات طلب کیں ۔ انہوں نے ہدایت دی کہ تمام پنچائتوں اور اربن لوکل باڈی کے وارڈوں کا احاطہ کیا جانا چاہئیے تا کہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی علاقہ اچھوت نہ رہے ۔
مہم کو نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے ہدایت دی کہ ان 100 دنوں کے دوران تیار کردہ ڈیٹا کو محکمہ اطلاعات کے نشہ مکت جے اینڈ کے پورٹل پر واضح طور پر محفوظ کیا جائے ۔ انہوں نے محکمہ اطلاعات اور تعلقاتِ عامہ ( ڈی آئی پی آر ) سے کہا کہ وہ رئیل ٹائم ڈیٹا اپ لوڈ کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں اضلاع کی مدد کرے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابلِ پیمائش نتائج جیسے کہ لوگوں کی تعداد پہنچی ، متاثرین کی مشاورت ، علاج یا بحالی اور منشیات فروشوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو منظم طریقے سے ریکارڈ اور ظاہر کیا جانا چاہئیے ۔
چیف سیکرٹری نے صحت ، سماجی بہبود اور ہوم سمیت اہم محکموں کو ہدایت دی کہ وہ اس مدت کے دوران اپنی کوششیں تیز کریں اور قابل قدر اہداف کے حصول کیلئے کام کریں ۔ انہوں نے تمام ڈرگ ڈی ایڈکشن سینٹرز کا جامع جائیزہ لینے پر بھی زور دیا تا کہ سہولیات کی دستیابی کا جائیزہ لیا جا سکے اور مقررہ اصولوں اور معیارات کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ پرنسپل سیکرٹری ہوم چندراکر بھارتی نے انفارمیشن ، ایجوکیشن اینڈ کمیونیکیشن ( آئی ای سی ) کی سرگرمیوں کے ساتھ نفاذ کو مضبوط بنانے پر زور دیا ۔ انہوں نے متاثرہ افراد میں ٹیلی ماناس ہیلپ لائن کو مقبول بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور مرکزی نگرانی کیلئے ایمر جنسی رسپانس نمبر 112 کے ساتھ اس کے انضمام کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے شہریوں کو منشیات سے متعلق سرگرمیوں کی اطلاع دینے کی بھی ترغیب دی ، اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ان کی شناخت کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا ۔ انہوں نے یو ٹی سطح کے این سی او آر ڈی اجلاسوں کے دوران جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے پر مزید زور دیا اور اضلاع سے کہا کہ وہ مہم کے دوران ان کے نفاذ کا باقاعدگی سے جائیزہ لیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی تمام ہدایات ضلعی سرپرستوں اور فیلڈ فنکشنز کے ساتھ شئیر کی جائیں گی تا کہ موثر عمل درآمد کیا جا سکے ۔ کمشنر سیکرٹری سماجی بہبود سرمد حفیظ نے تین ماہ کی مہم کا تفصیلی جائیزہ پیش کیا جس کا آغاز لفٹینٹ گورنر کی قیادت میں پد یاترا سے ہوا تھا ۔ یہ مہم نوجوانوں کو متحرک کرنے ، ہاٹ سپاٹ مداخلتوں اور سکولوں ، کالجوں ، پنچائتوں اور شہری وارڈوں میں سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرے گی ۔ محکمہ اطلاعات کے ساتھ مل کر پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیر کو یقینی بنایا جائے گا ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہر ضلع کوارڈینیشن ، نگرانی اور رپورٹنگ کیلئے ایک نوڈل افسر نامزد کرے گا ۔ نشہ مکت جے اینڈ کے پورٹل پر رپورٹوں ، تصاویر اور ویڈیوز کو اپ لوڈ کرنے کے ساتھ روزانہ کی رپورٹنگ کا ایک مضبوط طریقہ کار قائم کیا جائے گا تا کہ بغیر کسی استثنا کے تمام پنچائتوں اور وارڈوں کی جامع کوریج کو یقینی بنایا جا سکے ۔










