لیفٹیننٹ گورنرنے ’پدیا ترا‘کی قیادت کی اورمنشیات سے پاک جموںوکشمیر مہم کے تحت رام بن میں عوامی اِجتماع سے خطاب کیا
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے بدھ کے روز کہا،’’منشیات کا اِستعمال صرف اَمن و امان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک سماجی کینسر ہے جس کے خلاف معاشرے کے ہر طبقے کو لڑنا ہوگا۔ میں نے’پوری حکومت‘ اور ’پورے معاشرے‘ کے نقطہ نظر پر زور دیا۔ مجھے یقین ہے کہ جب حکومت کی طاقت اور معاشرے کا عزم ایک ہو کر کام کرتا ہے تب مشکل ترین چیلنجز بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔‘‘اُنہوںنے کہا کہ دہائیوں سے پاکستان نے جموں و کشمیر میں منشیات کی سمگلنگ کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ دہشت گردی کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے اور ہماری نوجوان نسل کو تباہ کیا جا سکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ہم ہر ہاٹ سپاٹ کی نشاندہی کریں گے اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہر ایک پر سرجیکل سٹرائیک کی طرح کارروائی کی جائے گی۔ ایک بھی سمگلر کو نہیں بخشا جائے گا۔ پورا نیٹ ورک ختم کیاجائے گا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کے سلسلے میں رام بن میں ایک عوامی اِجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔اُنہوں نے منشیات کے ناسور کے خلاف مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے ڈِسٹرکٹ پولیس لائن سے ڈِسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹیو کمپلیکس رام بن تک پیدل یاترا کی قیادت کی۔ اِ س موقعہ پر عوامی نمائندے، سول اور پولیس اِنتظامیہ کے اعلیٰ افسران، سول سوسائٹی کے اراکین، مذہبی رہنما، کاروباری و تجارتی کمیونٹی کے اَفراد، سابق فوجیوں،ممتازشہری، مختلف شراکت دار، خواتین، طلبأ، نوجوان اور زِندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اَفراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی جو منشیات کی لت کو جڑوں سے ختم کرنے، معاشرے کو تبدیل کرنے اور ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے عزم کے ساتھ جمع ہوئے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ایک بڑے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے منشیات کے خلاف جنگ میں معاشرے کے کردار کو اُجاگر کیا اور اِجتماعی کارروائی پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا ،’’اگر آپ کے پڑوسی کے گھر میں آگ لگی ہو تو آپ کا گھر بھی محفوظ نہیں ہے کیوں کہ منشیات آگ کی طرح نہیں بلکہ ہوا کی طرح پھیلتی ہیں۔ اِسی لئے ’پورے معاشرے‘کا ردِّعمل ہی منشیات کی ناسور کے خلاف ہمارا واحد حقیقی اور طاقتور ہتھیار ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’میرا پورا یقین ہے کہ جب معاشرہ کسی مقصد کے لئے متحد ہو جائے تو قانون ہزار گنا زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں منشیات فروش قانون سے خوف زدہ ہو اور جو شخص منشیات کی لت سے نجات پائے وہ خود پر، اپنے کنبے، اپنے معاشرے اور اپنی حکومت پر فخر محسوس کرے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ منظم معاشرے ہی تبدیلی لاتے ہیں اور خواتین کی طاقت اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’یہ جدوجہد ماؤں اور بہنوں، بزرگوں، نوجوانوں، اَساتذہ، پنچایتوں، کھلاڑیوں اور منتخب نمائندوں سب کی ہے۔ یہ کسی ایک محکمے کا کام نہیں ہے۔ نشے کو شکست دینا ہماری اِجتماعی ذِمہ داری ہے۔‘‘اُنہوں نے ہر پنچایت اور وارڈ سے اپیل کی کہ خواتین کی نگرانی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’خواتین اس جدوجہد کی فرنٹ لائن ہیں ، آپ جانتے ہیں کہ گھر کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ اگر کنبے میں کوئی شخص نشے کی علامات ظاہر کرے تو اسے چھپائیں نہیں۔ اسے مجرم نہ کہیں بلکہ مریض سمجھیں۔ لیکن اس مریض کو صرف چار دیواری نہیںبلکہ معاشرے کی مدد کی ضرورت ہے۔‘‘اُنہوںنے نوجوانوں سے روبرو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کوئی فیشن نہیں بلکہ منشیات اور منشیات فروشوں کی غلامی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’اپنی توانائی کو کھیل کے میدانوں، فنون اور تعلیم میں لگائیں۔ہم سکولوں اور کالجوں میں منشیات کو بہادری نہیں بلکہ بزدلی کی علامت بنائیں گے۔ علاج،شناخت اور بحالی ہماری ترجیح ہوگی۔‘‘اُنہوںنے اِس بات پر زور دیا کہ ہر ڈرگ ڈی ایڈیکشن سینٹر مستند ہو اور تمام ضروری وسائل سے لیس ہو۔اُنہوں نے کہا،’’ان سینٹروں کی سخت نگرانی ضروری ہے۔ اگر کوئی سینٹر غیر قانونی طور پر چلتا ہوا پایا جائے یا معاشرے اور نوجوانوں کو نقصان پہنچا رہا ہو تو اسے چوبیس گھنٹے کے اندر بند کیاجائے، چاہے اسے چلانے والا کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔ ایسے تمام سینٹروں کے خلاف کارروائی پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے پولیس حکام کو ہدایت دی کہ منشیات کی سپلائی چین کو توڑا جائے، رام بن کے تمام منشیات فروشوں کی پولیس سٹیشنوںمیں فہرست تیار کی جائے اور منشیاتی نیٹ ورکس کو ختم کیا جائے۔اُنہوں نے کہا،’’اَب معاشرے کے لئے خاموش رہنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ ہماری صوبائی اور ضلعی اِنتظامیہ نے ہر وارڈ اور پنچایت کا احاطہ کرنے والی ایک جامع اور کثیر جہتی حکمت عملی تیار کی ہے۔ یہ جدوجہد ہم سب کی ہے۔ اگر ہم آج ناکام ہوئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’آئیے آج عہد کریں کہ کسی بھی منشیات فروش کو اپنے گاؤں یا گلی میں پناہ نہیں ملے گی۔ ہر نشے کے عادی شخص کو علاج کی طرف رہنمائی کی جائے گی اور ہر نوجوان کی توانائی کو بامقصد سمت دی جائے گی۔‘‘اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے اِنسدادِ منشیات کا حلف بھی دِلوایا اور بائیک ریلی کو جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا۔










