sale of Kode orphans in kashmir

کووڈ یتیموں کی فروخت کے معاملے میں پولیس اور سول انتظامیہ نے تحقیقات تیز کر دی

کیس درج ،ریکارڑ ضبطاور2افراد گرفتارواقعے میں مبینہ طور پر ملوث این جی او کا دفتر سامبورہ پامپور میں سیل

سرینگر//پولیس اور سیول انتظامیہ نے کووڈ یتیموں کے فروخت کے معاملے کے حوالے سے کارروائی تیز کر کے این جی او کا پانپور کے سانبورہ میں قائم ان کا دفتر سیل کیا ہے ْجبکہ یہاں موجود ریکارڑ کو بھی ضبط کیا گیا ہے ۔ حکام نے یہ کارروائی گزشتہ روز خبر منظر عام پر آنے کے بعد کیا ۔اس دوران وادی کشمیر میں اس طرح کے واقعات پر شدید تشویش اور غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق پولیس نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر جمعرات کو ایک این جی او کے دفتر کو سیل کر دیا جو مبینہ طور پر کووڈ یتیموں کی فروخت میں ملوث ہے۔پولیس ذرائع نے بتایاجنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں پامپور کے سمبورہ علاقے میں گلوبل ویلفیئر چیریٹیبل ٹرسٹ کا دفترجمعرات کے روز سیل کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور تحصیل انتظامیہ کی ایک ٹیم نے دفتر پر چھاپہ مار کر کچھ اہم دستاویزات قبضے میں لے لیں اور اس کے دفتر کو بھی سیل کر دیا۔اس کیس کے حوالے سے تا حال دو افراد جن میں محمد امین راتھر ولدغلام محمد راتھر ساکن ،بمنہ سرینگراوراعجاز احمد ڈار ولد عبد الحمید ڈار ساکن خانقاہ باغ پانپورکو گرفتار کر لیا ہے واقعے کے حوالے سے مزید گرفتاریاں متوقع ہے ۔ خیال رہیایک نجی نیوز چینل نے اسبات کاسنسنی خیز اورعبرتناک انکشاف کیاہے کہ کووِڈ19 کے بعد یتیم ہونے والے کشمیری بچے بھارتی بازاروں میں فروخت کر رہے ہیں۔اس دوران ایک نجی نیوز چینل ’انڈیا ٹوڈے‘ نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اسبات کاانکشاف کیاہے کہ اسرار امین کشمیر میں گلوبل ویلفیئر چیریٹیبل ٹرسٹ کے نام سے ایک این جی ائو چلاتے ہیں، جو بچوں اور خاندانی بہبودکیلئے کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔لیکن جب انڈیا ٹوڈے کے’ ایس آئی ٹی ‘کے نامہ نگاروں نے دہلی کے ایک ہوٹل میں اسرار امین سے تفتیش کی تو اس نے اپنی زیر نگرانی کووڈ یتیم ایک بچے کو75ہزار روپے میںفروخت کرنے کی پیشکش کی۔ اسرار امین نے نامہ نگارکوبتایاکہ ہمارے ساتھ بہت سے یتیم بچے ہیں لیکن اگر کوئی کوویڈ یتیم چاہتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری بچے واقعی خوبصورت ہیں ماشاء اللہ!‘‘۔بچوںکے مبینہ دلال یاسوداگراسرارامین نے کووڈ یتیموں کے ایک جوڑے کیلئے ڈیڑھ لاکھ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔انڈیا ٹوڈے کے ایس آئی ٹی رپورٹر نے پوچھاتوڈیڑھ لاکھ روپے میں2یتیم بچے گود لئے جا سکتے ہیں۔اسرار امین نے نامہ نگارسے کہاکہ جی ہاں،’میں یہ رقم اپنے لئے نہیں لے رہا ہوں۔ یہ میرے اعتماد کے لئے ہے،‘۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق اسرار امین کسی بھی کاغذی کارروائی کے بغیر کوویڈ یتیم بچوں کو پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اُس نے نیوز چینل کے رپورٹر کو بتایاکہ آپ کسی وجہ سے بچہ گود لے رہے ہوں گے۔ اس صورتحال میں کاغذی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ اب بھی اصرار کرتے ہیں، تو آپ یہ کر سکتے ہیں۔اس پررپورٹر نے پوچھالیکن اگر کل کوئی مسئلہ ہو تو؟۔بچوںکے مبینہ دلال یاسوداگراسرارامین نے جواب دیا’’یہ میرا سر درد ہے، میں سنبھال لوں گا، میں کہوں گا کہ تم مجھ سے کبھی نہیں ملے،میں آپ کو نہیں جانتا۔ رپورٹ کے مطابق کشمیر کے پانپورر سے ایک این جی او آپریٹر نوزائیدہ کوویڈ یتیم بچوں کو گود لینے کیلئے پیش کر رہا تھا، جن میں سے کچھ ہسپتالوں سے اٹھائے گئے تھے۔نوبل فاؤنڈیشن نامی این جی ائو کے اعجاز احمد ڈار نے نئی دہلی میں انڈیا ٹوڈے کے تحقیقاتی نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ ہسپتال کے ڈاکٹروں کو یتیم نوزائیدہ بچوں کی چوری میں ملوث کریں گے۔یتیم بچوںکے اس مبینہ سوداگر نے کہا’’فرض کریں کہ کوئی نوزائیدہ بچہ ہے۔ ہم اس بچے کو فوراً اٹھا لیں گے۔اُس نے کہاکہ ایک نوزائیدہ جس کی ماں ہسپتال میں کوویڈ سے مر گئی؟،ہم ایسے بچے کواسپتال سے اُٹھالیں گے ۔خیال رہے واقعے کے حوالے سے خبر منظر عام پر آنے کے بعد پورا کشمیر دم بخود ہوا ہے جس کے بعدپولیس نے گزشتہ شام ہی ایک ایف آئی آر153/2021درج کر کے مزید تحقیقات شروع کیا ہے ۔