Chief Secretary chairs 174th BoD meeting of JK Minerals

چیف سیکرٹری نے جے کے منرلز کی 174 ویں بورڈ میٹنگ کی صدارت کی

جموں//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے جے کے منرلز کے بورڈ آف ڈائریکٹرس کی 174 ویں میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ، کمشنر سیکرٹری محکمہ مائننگ محکمہ ، ڈائریکٹر جیولوجی اینڈ مائننگ ، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایم ایل ، ڈائریکٹر جنرل پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ ڈیپارٹمنٹ اور فائنانشل ایڈوائزر ، سی اے او جے کے ایم ایل نے شرکت کی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ کووِڈ۔19 کے بحران کے باوجود جس کے معاشی اور سماجی اثرات دور رس تھے،جموںوکشمیر منرلز نے تسلی بخش کارکردگی دکھائی ہے اور جموںوکشمیر میں معدنیات پر مبنی صنعتوں کو ضروری خام مال کی فراہمی جاری رکھی ہے۔میٹنگ کو مزید جانکاری دی گئی کہ کارپوریشن نے پہلی بار معمولی معدنیات کے استحصال میں قدم رکھا اور جموں خطے میں چار معمولی معدنی بلاکوں کو فعال کیا جس سے تعمیراتی مواد سمیت مختلف اہم پروجیکٹوں بشمول اے آئی آئی ایم ایس، آئی آئی ایم، دونوں دارالخلافائی شہروں میں رِنگ روڈ اور قومی شاہراہ 44 پر کام کیلئے اور دیگر پروجیکٹوں کو ریت ، پتھر اور آر بی ایم کی باقاعدہ فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ مزید برآں جیولوجیکل سروسے آف اِنڈیا سے پدر سیفائرمائن کا ابتدائی سروے مکمل کیا گیا ہے ۔چیف سیکرٹری نے ذخائر کی مقدار کے مسئلے کا جائزہ لینے اور اس کے پائیدار نکالنے کے لئے ایک مناسب طریقہ کار بنانے اور آئندہ لائحہ عمل کی سفارش کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی ۔کالا کوٹ کانوں کے بارے میں مائننگ ڈیپارٹمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر ڈائریکٹر جنرل مائنز سیفٹی مرکزی حکومت سے حفاظتی آڈِٹ کرائے اور ان کانوں سے دیگر معمولی معدنیات کی کانوں میں اِضافی محنت کو معقول بنایا جائے۔چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے رام بن ضلع میں پر لنکا جپسم کی کانوں کے کام کاج کا بھی جائزہ لیا اور کانوں سے جپسم نکالنے جو فی الحال 40,000 ایم ٹی ماہانہ ہے کو بڑھانے کے لئے جے کے منرلز کو اضافی بلاکس الاٹ کرنے کی ہدیات دی چیف سیکرٹری نے کارپوریشن کو خود کفیل بنانے کے لئے اِنتظامیہ کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کمپنی سے کہا کہ وہ جموںوکشمیر میں مزید معدنیات نکالنے کے اِمکانات تلاش کرے ۔ اُنہوں نے مزید کہا ،’’ اِس سے جموں و کشمیر یوٹی میں معدنیات پر مبنی صنعتوں کو ترقی دینے اور خطے میں مزید روزگار پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘