mehbooba mufti

پی ڈی پی ،این سی کے بعد اب کانگریس نشانے پر،پارٹیاں خود تقسیم نہیں ہوتی:محبوبہ مفتی

سرینگر//پیپلز ڈیموکڑیٹک پارٹی (پی ڈی پی)کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ جموںو کشمیر محبوبہ مفتی نے بھاجپا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جموںوکشمیر میں مین سٹریم جماعتوں کو توڑ کرانہیں پرکسی پارٹیاں کھڑا کرنے کے لئے کہتے ہیں تاکہ آنے والی اسمبلی میں پنے 5اگست کے ناجائز اور غیر آئینی فیصلے کو رست ٹھہرایا جائے۔انہوں نے کہا ان پارٹیوں کو بی جی پی الگ الگ طریقوں سے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں عوامی جلسہ سے خطاب کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھاجپا کی پالیسی تقسیم کی رہی ہے ، پہلے انہوںنے پی ڈی پی پر حملہ کیا اور اسے توڑ کر درپردہ (proxy)سیاسی جماعتیں کھڑی کیں، وہ آپ سب جانتے ہیں لیکن میں اُن کا نام لینا ضروری نہیں سمجھتی ہوں۔ انہوںنے کہا اس کے بعد جموںمیں نیشنل کانفرنس کوتوڑا گیا اور بھاجپا میں براہ راست شامل کرایا۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ اب جو کانگریس میں تقسیم ہورہی ہے،مجھے نہیں لگ رہا ہے کہ یہ خودبخود ہورہا ہے ، مجھے لگتا ہے کہ اس کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ ہے۔ پی ڈی پی صدر نے کہاکہ کانگریس کے دو ٹکڑے کرکے ان کو الگ الگ طریقے سے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ چنائو کبھی نہ کبھی نہ ہونے ہیںلیکن مجھے خدشہ ہے کہ جس طرح یہ پارٹیوں کی توڑ پھوڑ کررہے ہیں، ان کا مقصد صرف آنے والے اسمبلی انتخابات میں یہ ایسے لوگوں کو اسمبلی میں پہنچائے جو انہوںنے غیر قانونی اور illegalطریقے سے 5اگست 2019کو فیصلے کئے ، اُس کو یہ اُن کے ذریعہ درست کرائے ۔ انہوںنے کہاکہ مجھے پورا یقین ہے کہ جموںوکشمیر کے لوگ باخبر ہے وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کی جماعتیں کون ہیں، کون اُن کے حقوق کا تحفظ کرسکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہہ نئی نئی جماعتیں اب آرہی ہیں، ان کا مقصد بھاجپا کا ساتھ دینا ہے اورکئے گئے غلط فیصلوں کو جائز قرار دینا ہے۔