sambat patra

پنجاب میں بدعنوانی اور امن و قانون کی صورتحال پر بی جے پی کا مان حکومت پر حملہ

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان اور لوک سبھا کے رکن ڈاکٹر سمبت پاترا نے پیر کو پنجاب کی عام آدمی پارٹی (عآپ) حکومت کو بدعنوانی اور بگڑتی ہوئی امن و قانون کی صورتحال پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔سمبت پاترا نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی جانب سے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے او ایس ڈی رنبیر سنگھ گمان اور ان کے قریبی لوگوں پر عائد بدعنوانی کے الزامات کی سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کی ہدایت دیا جانا ریاستی حکومت میں مبینہ بدعنوانی کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے ایک مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کے دوران او ایس ڈی اور ان کے قریبی افراد پر عائد بدعنوانی کے الزامات کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کو تقریباً دو ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بی جے پی ترجمان نے الزام لگایا کہ او ایس ڈی اور بعض دیگر افسران مبینہ طور پر حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فوائد لوگوں تک پہنچانے میں بیچولیوں کا کردار ادا کر رہے تھے اور اس کے بدلے رشوت لیے جانے کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان الزامات کے سلسلے میں وکیل نکھل شراف نے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔ بی جے پی رہنما نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان، ْعآپ کے کنوینر اروند کیجریوال اور پارٹی سے اس معاملے پر جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ مبینہ گھوٹالے میں کتنی رقم کا لین دین ہوا اور وزیر اعلیٰ کے قریبی لوگ اس میں کس حد تک ملوث ہیں۔