بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر آنے والوں کا معاملہ الگ، روہنگیا کو بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے
سرینگر// یو این ایس / جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے روہنگیا کے خلاف حالیہ کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف اچانک کارروائی سمجھ سے بالاتر ہے اور انہیں بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سری نگر میں منگل کے روز نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جو لوگ بنگلہ دیش سے بغیر اجازت بھارت میں داخل ہوئے ہیں، ان کا معاملہ الگ ہے اور ایسے افراد ملک میں غیر قانونی طور پر نہیں رہ سکتے۔ تاہم انہوں نے روہنگیا کے بارے میں کہا کہ انہیں ان کے ملک کے حالات کی وجہ سے یہاں جگہ دی گئی تھی اور انہیں اس وقت تک رہنے کی اجازت دی گئی جب تک ان کے ملک کے حالات بہتر نہ ہوجائیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں روہنگیا کے خلاف اچانک کارروائی کیے جانے پر حیرت ہے، تاہم یہ معاملہ مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے اور جموں و کشمیر حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں جموں و کشمیر پولیس بھی یونین ٹیریٹری حکومت کے ماتحت نہیں ہے۔یکساں سول کوڈ کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت اسے نافذ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکز یکساں سول کوڈ نافذ کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے پارلیمنٹ میں قانون پیش کیا جائے، جہاں اس پر بحث اور قانون سازی ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون لایا جائے اور دیکھا جائے کہ وہ منظور ہوتا ہے یا نہیں۔انڈیا اتحاد کی جانب سے مبینہ طور پر ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر جاری مہم کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ مسئلہ آئندہ بھی اٹھایا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی مبینہ طور پر ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومت ہند سے جواب طلب کیا ہے۔موبائل رابطے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے ایسے علاقوں میں جہاں موبائل کوریج دستیاب نہیں ہے، ٹاور نصب کرنے کیلئے بی ایس این ایل کو زمین فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے سڑکوں کے ساتھ ڈکٹ بچھانے کی پالیسی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس سے مختلف محکموں کو پانی، بجلی اور ٹیلی مواصلات سے متعلق کاموں کیلئے بار بار سڑکیں کھودنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کے مطابق سڑک کی تعمیر کے وقت ہی ڈکٹ کا استعمال کرنا بہتر ہوگا تاکہ بعد میں سڑک کو دوبارہ نہ کھودنا پڑے۔










