35.64 کروڑ روپے مالیت کی سکیموں سے زائد اَز 5,600 گھرانوں کو فائدہ پہنچے گا
سری نگر//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے آج لولاب حلقے سے متعلق 10 واٹر سپلائی سکیموں کا اِی۔اِفتتاح کیا۔ یہ سکیمیں 35.64 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے مکمل کی گئی ہیں اور مختلف دیہاتوں کے 5,662 گھرانوں کو فائدہ پہنچے گا۔جل شکتی پی ایچ ای ڈویژن کپواڑہ کی جانب سے تعمیر کردہ ان سکیموں کا مقصد پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور حلقے کے لوگوں کے لئے محفوظ، قابلِ اعتماد اور دیرپا پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ۔اِس موقعہ پر جاوید رانا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے پُرعزم ہے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور ضروری عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت ترقی کے ثمرات ہر گھر تک پہنچ کر لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے پُرعزم ہے ۔ ہماری توجہ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور نچلی سطح پر قابلِ اعتماد عوامی خدمات فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔‘‘وزیر جل شکتی نے کہا کہ پینے کے صاف اور قابلِ اعتماد پانی تک رسائی ہر گھرانے کی فلاح و بہبود اور وقار کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے جموں و کشمیر بھر میںواٹر سپلائی سکیموں کی توسیع، بہتری اور بروقت تکمیل کو ترجیح دی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ لولاب میں 10 سکیموں کا اِی۔اِفتتاح حلقے میں پانی کی فراہمی کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور ہزاروں گھرانوں کو پینے کے پانی کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔وزیر موصوف نے مزید کہا، ’’ہمارا مقصد محض بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا نہیں ہے بلکہ اِس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر مکمل شدہ سکیم سے لوگوں کو مطلوبہ فوائد حاصل ہوں۔ہم عوام دوست نقطہ نظر کے ساتھ کام جاری رکھیں گے تاکہ ہر گھر کو ضروری خدمات قابلِ اعتماد اوردیرپا انداز میں ضروری خدمات تک رَسائی حاصل ہو سکے۔‘‘اِفتتاح کی گئی سکیموں میں’ ڈبلیو ایس ایس کھبوت در محلہ شامل ہے جس کی لاگت 1.08 کروڑ روپے ہے اور جو میدان پورہ کے 93 گھرانوں کا احاطہ کرتی ہے، ڈبلیو ایس ایس دیور اندربُگ جس کی لاگت 3.50 کروڑ روپے ہے اور جس سے دیور اور اندربُگ کے 1,400 گھرانوں کو فائدہ ہوگا، ڈبلیو ایس ایس گنگ بُگ جس کی لاگت 3.77 کروڑ روپے ہے اور جو سوگام کے 450 گھرانوںکا احاطہ کرتی ہے اور ڈبلیو ایس ایس کروسن جس کی لاگت 4.67 کروڑ روپے ہے اور جس سے کروسن کے 626 گھرانوں کو فائدہ ہوگا۔اِسی طرح ڈبلیو ایس ایس والکھل جو 4.25 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے جو ٹیکی پورہ کے 200 گھرانوں کو سہولیت فراہم کرتی ہے جبکہ ڈبلیو ایس ایس گڈواہ جس کی لاگت 0.92 کروڑ روپے ہے سیور تھنڈی پورہ کے 91 گھرانوں کو پانی فراہم کرتی ہے۔ ڈبلیو ایس ایس کواری ہاردن سیورجس کی لاگت 3.79 کروڑ روپے ہے سیور تھنڈی پورہ کے 900 گھرانوں کا احاطہ کرتی ہے جبکہ ڈبلیو ایس ایس مرگی جس کی لاگت 0.90 کروڑ روپے ہے دیور اندربگ کے 250 گھرانوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ڈبلیو ایس ایس گنڈ ماچھر جو 2.95 کروڑ روپے کے تخمینہ شدہ لاگت سے تعمیر کی گئی ہے، ریکھ موچھواری اور راکھی گنڈ ماچھر کے 452 گھرانوں کا احاطہ کرتی ہے۔ ڈبلیو ایس ایس سوریگام وَوور بون میدان پورہ 9.81 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی ہے اور سوریگام، وَوورہ اور میدان پورہ کے 1,200 گھرانوں کو سہولیت فراہم کرتی ہے۔وزیرجل شکتی جاوید رانا نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ مکمل شدہ سکیموں کے مناسب چالو رکھ رکھاؤ اور دیکھ ریکھ کو یقینی بنائیں تاکہ مطلوبہ فوائد برقرار رہیں اور ہدف شدہ گھرانوں تک مؤثر طریقے سے پہنچیں۔اُنہوں نے جاری پانی کی فراہمی کے جاری منصوبوں کی قریبی نگرانی، کاموں کی بروقت تکمیل اور عوامی وسائل کے بہترین اِستعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اَفسران کو ہدایت دی کہ سکیموں کی باقاعدگی سے فیلڈ سطح پر نگرانی کریں۔یہ اِی۔اِفتتاح لولاب میں پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور حلقے کے لوگوں کے لئے ضروری عوامی خدمات تک بہتر رَسائی یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔اُنہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی حلقے کا دورہ کریں گے تاکہ اِفتتاح شدہ سکیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور زیر تکمیل دیگر سکیموں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جاسکے۔رُکن قانون ساز اسمبلی لولاب قیصر جمشید لون نے وزیرموصوف کا حلقے کی ترقی کے لئے مسلسل تعاون اور ذاتی توجہ کا شکریہ اَدا کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کئی دیہات پہلی بار پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کی سہولیت سے مستفید ہوں گے جو علاقے کے لوگوں کے لئے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ اُنہوں نے ان سکیموں کی بروقت تکمیل پر وزیرموصوف اورمتعلقہ محکمے کا تہہ دِل سے شکریہ اَدا کیا اور اُنہوں نے لوگوںکے دیرینہ مطالبے کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ مالی مشکلات کے باوجود جل شکتی محکمے کی تقریباً 30 واٹر سپلائی سکیمیں کشمیر بھر میں بشمول کولگام، اننت ناگ، بارہمولہ، بڈگام اور کپواڑہ افتتاح کے لئے تیار ہیں۔ توقع ہے کہ یہ سکیمیںعنقریب فعال کی جائیں گی۔وزیر برائے جل شکتی جاوید رانا نے ان سکیموں کی تیاری کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ باقی ماندہ کاموں میں تیزی لائیں اور ان کے جلد آغاز کے لئے تمام ضروری رسمی کارروائیاں مکمل کریں۔ اُنہوں نے اِس بات پرزور دیا کہ پانی کی فراہمی کے لئے تیار شدہ بنیادی ڈھانچے کو جلد از جلد اِستعمال میں لایا جائے تاکہ لوگوں کو اس کے مطلوبہ فوائد بغیر کسی مزید تاخیر کے حاصل ہو سکیں۔اِن سکیموں میں سے 10 جل جیون مشن (جے جے ایم) کے تحت 64.78 کروڑ روپے کی لاگت سے، 14 نبارڈ کے تحت 59.69 کروڑ روپے سے، تین یو ٹی کیپکس کے تحت 11.95 کروڑ روپے سے اور ایک امرت 2.0 کے تحت 1.41 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کی گئی ہیں۔










