جہاز سازی کی صنعت کو تجارتی طور پر مسابقتی طاقت میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت / راجناتھ سنگھ
سرینگر / این این بی // ہندوستان کا مقصد محض خود انحصار حاصل کرنا نہیں بلکہ بحری اور جہاز سازی کے شعبے میں عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بننا ہونا چاہیے کی بات کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستانی جہاز سازی کی صنعت کو اس مقام تک پہنچانے پر زور دیا جہاں ملک کے شپ یارڈز نہ صرف ہندوستانی بحریہ بلکہ دوست ممالک اور عالمی منڈیوں کے لیے بھی جدید جہاز اور بحری خدمات فراہم کرسکیں۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق وشاکھاپٹنم میں ہندوستان شپ یارڈ لمیٹڈ (ایچ ایس ایل) میں بڑے مقامی جہاز سازی اور بحری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک کی جہاز سازی کی صنعت کو تجارتی طور پر قابل عمل، مو ¿ثر اور عالمی معیار کی مسابقتی طاقت میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا”ہمارا مقصد صرف خود انحصار بننا نہیں ہونا چاہیے، ہمیں عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بننا ہوگا۔ خود انحصاری ہمارے سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے، جبکہ عالمی مسابقت ہماری اگلی بڑی چھلانگ ہے۔“انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایسی پوزیشن حاصل کرنی ہوگی جہاں اس کے شپ یارڈز ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دوست ممالک اور عالمی منڈیوں کے لیے بھی جہاز تیار کرسکیں۔وزیر دفاع نے ملک کی جہاز سازی کی صنعت کو وسعت دینے کے لیے پانچ نکاتی اصول پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو بہتر ڈیزائن تیار کرنے، تیزی سے تعمیر کرنے، وقت پر فراہمی یقینی بنانے، مو ¿ثر انداز میں کام کرنے اور جہازوں کی دیکھ بھال کا مضبوط نظام قائم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے بحری عزائم کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے رسد کے نظام اور صنعت سے متعلق بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ملک میں جہاز سازی کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم اس صلاحیت کو عملی قوت اور پھر عالمی مسابقتی برتری میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے بروقت فراہمی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، مقامی ڈیزائن تیار کرنے کی قابلیت، مضبوط سپلائی چین، ہنرمند افرادی قوت، پیداواری گنجائش اور لاگت کے اعتبار سے مسابقت جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔وزیر دفاع نے سرکاری دفاعی جہاز ساز کمپنی ہندوستان شپ یارڈ لمیٹڈ پر زور دیا کہ وہ مقامی صنعتوں، یونیورسٹیوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے ساتھ جوڑ کر ایک مضبوط اور خود کفیل دفاعی صنعتی بنیاد تیار کرے۔انہوں نے کہا کہ ایچ ایس ایل کو آندھرا پردیش کے وسیع صنعتی نظام کے ساتھ مزید مضبوط تعلق قائم کرنا چاہیے۔ ریاست کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں جہاز سازی کے لیے سامان فراہم کرنے والی کمپنیوں کے طور پر اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، جبکہ یونیورسٹیاں تحقیق اور ہنر کی ترقی کے مراکز بن سکتی ہیں۔راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیجیٹل جہاز سازی کے شعبے میں تعاون کرسکتی ہیں اور نئے کاروباری ادارے جدید بحری ٹیکنالوجی کی تیاری میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لاجسٹکس اور بندرگاہوں کا بنیادی ڈھانچہ جہاز سازی، مرمت اور دیکھ بھال کے ایک وسیع اور مضبوط نظام کو سہارا دے سکتا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک کے بحری شعبے کی صلاحیتوں کو مزید فروغ دینے اور ہندوستان کو عالمی جہاز سازی کی صنعت میں ایک مضبوط اور مسابقتی مقام دلانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔










