عالمی امن کیلئے بھارت ہر ملک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کیلئے ُپر عزم:وزیر اعظم نریندرمودی
سرینگر / / این این بی // بھارت اور سوئٹزرلینڈ جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی، مکالمے اور سفارت کاری پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور دونوں ممالک عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے کی بات کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی سطح پر درپیش نئے اور پیچیدہ چیلنجز سے مو ¿ثر انداز میں نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہوچکی ہیں۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نئی دہلی کے حیدرآباد ہاو ¿س میں سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پرملین کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر دونوں رہنماو ¿ں نے دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، عالمی امن و سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور سوئٹزرلینڈ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ عالمی نظام کو نئے چیلنجز کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق عالمی اداروں میں اصلاحات کے ذریعے انہیں زیادہ موثر، نمائندہ اور موجودہ عالمی حقائق سے ہم آہنگ بنایا جا سکتا ہے۔عالمی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت نے مسلسل امن کے لیے ہونے والی ہر بامعنی کوشش کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے یوکرین کا تنازعہ ہو یا مغربی ایشیا کی صورتحال، بھارت نے امن، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافات اور تنازعات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے اور عالمی برادری کو پائیدار امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔وزیراعظم مودی نے سوئٹزرلینڈ کے صدر کا بھارت میں پرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے صدر گائے پرملین کی وابستگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے گزشتہ برس اکتوبر میں یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ممالک کے ساتھ بھارت کے تاریخی تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم کے مطابق اس معاہدے میں سوئٹزرلینڈ کا اہم کردار رہا ہے اور اس کے نتیجے میں بھارت اور EFTA ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔مودی نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت آنے والے برسوں میں بھارت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری متوقع ہے اور اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے اسے بھارت اور یورپی ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔وزیراعظم نے بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے تعلقات کو صرف سفارتی اور اقتصادی روابط تک محدود قرار دینے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان موجود تاریخی اور تہذیبی وابستگی کا بھی ذکر کیا۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور سوئٹزرلینڈ مشترکہ جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور پرامن ذرائع سے مسائل کے حل کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک عالمی امن اور استحکام کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی، اقتصادی اور عوامی روابط مستقبل میں مزید مستحکم ہوں گے اور تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون کو نئی رفتار ملے گی۔بھارتی وزیراعظم کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں باہمی اعتماد، مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکے ہیں، جبکہ عالمی اداروں کو بھی نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مو ¿ثر اصلاحات کے عمل سے گزرنا ہوگا۔










