جنیوا میں بین الپارلیمانی یونین کی میٹنگ، ہندوستانی شرکاء کا پاکستان پر حملہ
سرینگر//بھارت نے جنیوا میں بین الپارلیمانی یونین کی 148ویں میٹنگ کے دوران لداخ اور جموںکشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ قراردیتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان کو جموں کشمیر میں ملٹنسی کوبڑھاوادینے اور حالات خراب کرنے کی کوشش کا مورد الزام ٹھہرایا ۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ان دہشت گرد فیکٹریوں کو بند کرنے کا مشورہ دیا جانا چاہئے جو جموں و کشمیر میں سرحد پار سے دہشت گرد حملے کرتے ہیں۔ ہندوستان نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردوں کو مدد اور پناہ دینے کی تاریخ رہی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کرنے پر تنقید کی ہے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ان دہشت گرد فیکٹریوں کو بند کرنے کا مشورہ دیا جانا چاہئے جو جموں و کشمیر میں سرحد پار سے دہشت گرد حملے کرتے ہیں۔ ہندوستان نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردوں کو مدد اور پناہ دینے کی تاریخ رہی ہے۔راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے کل جنیوا میں بین الپارلیمانی یونین کی 148ویں میٹنگ کے دوران پاکستان کے خلاف اپنے جواب کے حق میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے نامزد دہشت گردوں کی بڑی تعداد کو پناہ اور امداد فراہم کرنے کا شرمناک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی دہشت گردی کا چہرہ اسامہ بن لادن بھی پاکستان میں تھا۔بھارتی سرزمین سے متعلق پاکستان کے تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ جمہوریت کے حوالے سے انتہائی خراب ریکارڈ رکھنے والا ملک تقریر کرے تو یہ ہنسنے والی بات ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور بہت سے ممالک ہندوستان کے جمہوریت کے ماڈل کی پیروی کرتے ہیں۔جموں کشمیر اور لداخ کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ بتاتے ہوئے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ کسی بھی شخص یا ادارے کی بیان بازی اور پروپیگنڈے سے حقائق کو غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا۔










