اِمدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا،سرحد پار جارحیت کا فوری جواب دینے پر سیکورٹی فورسز کی سراہنا کی
جموں//وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے سرحد پار گولہ باری اور ڈرون حملوں میں اِضافے کے پیش نظر جموں اور سانبہ اَضلاع میں قائم متعدد ریلیف کیمپوں کا دورہ کیا۔ ہوائی اَڈے بند ہونے کے باعث وزیر اعلیٰ علی الصبح بذریعہ سڑک جموں پہنچے تاکہ صورتحال اور اِمدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے سکیں۔وزیر اعلیٰ کے ہمراہ مشیر ناصر اسلم وانی، وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و اَمورِ صارفین ستیش شرما سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی تھے۔ اُنہوں نے مشریوالہ، ناگبانی، بشناہ اور تھنڈی کھوئی میں قائم پناہ گاہوں کا دورہ کیا اور وہاں موجود متاثرہ لوگوں کے لئے خوراک، طبی سہولیات اور رہائش کے اِنتظامات کا جائزہ لیا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ اِس مشکل وقت میں لوگوں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ اُنہوں نے اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ ہر اُبھرتی ہوئی صورتحال کے لئے مستعد اور چوکنا رہے۔حکومت نے لڑائی کی وجہ سے شہریوں کی نقل مکانی کے پیش نظر سرحدی اَضلاع میں متعدد مقامات پر اِمدادی کیمپ قائم کئے ہیں۔اُنہوں نے ضلعی اَفسران کے ساتھ میٹنگ کر کے مجموعی صورتحال اور جاری ریلیف اَقدامات کا جائزہ لیا اور متاثرہ شہریوں کی حفاظت اور بہبود کے لئے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعلیٰ نے سرحدی علاقوں میں ہونے والی شدید گولہ باری بالخصوص ضلع پونچھ میں شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر گہرے دُکھ کا اِظہار کیا۔اُنہوں نے بتایا کہ زخمیوں کا علاج و معالجہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں جاری ہے جبکہ شدید زخمیوں کو اعلیٰ طبی سہولیات کے لئے چندی گڑھ ریفر کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کے دونوں صوبوںکے متعدد مقامات پر گزشتہ رات پاکستان کی طرف سے سرحد پار حملوں کا مؤثر جواب دینے پر سیکورٹی فورسز کی بروقت اور کامیاب کارروائی کی سراہنا کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اَپنی پوری طاقت کے ساتھ اَپنے لوگوں اور سرزمین کا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا،’’اگر ہمارے بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچایا گیا تو ملک کو اَپنی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے۔ پاکستان کو امن کے قیام کے لئے جارحیت بند کرنا ہوگی۔ اگر وہ حملے جاری رکھتے ہیں تو اُنہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ہماری فورسز بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔‘‘










