نئی دہلی/قومی نیوز//کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایس سی ڈپارٹمنٹ کے قومی صدر راجندر گوتم نے الزام لگایا کہ ملک میں ذات اور مذہب کی بنیاد پر نفرت کو منظم طریقے سے بڑھایا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ بی جے پی حکومتوں کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت ’وشو گرو‘ اور ’وکست بھارت‘ کے دعوے کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ سماج کو نفرت، تشدد اور تفریق کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ راجندر گوتم نے کہا کہ اتر پردیش میں حالات سب سے زیادہ تشویشناک ہیں، جہاں ریاستی وسائل، پولیس اور انتظامیہ کا استعمال کھلے عام دلتوں، آدیواسیوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کی زیرو ٹالرینس پالیسی دراصل ذات اور مذہب دیکھ کر نافذ ہوتی ہے۔ دلتوں کے خلاف جرائم میں نہ تو بروقت کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی انصاف نظر آتا ہے، جبکہ ملزم اگر کمزور طبقے سے ہو تو چوبیس گھنٹے کے اندر بلڈوزر کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے میرٹھ کے دل دہلا دینے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک لڑکی اپنی ماں کے ساتھ جنگل کی طرف جا رہی تھی، جہاں اسے اغوا کر لیا گیا۔ ماں نے جب بیٹی کو بچانے کی کوشش کی تو اس پر حملہ کر کے بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔
راجندر گوتم نے کہا کہ جب کانگریس کے نمائندے متاثرہ خاندان سے ملنے گئے تو پولیس نے انہیں راستے میں روک لیا اور کئی گھنٹے تک انتظار کرانے کے بعد بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق اگر پولیس اتنی ہی مستعدی مجرموں کو گرفتار کرنے اور سزا دلانے میں دکھائے، جتنی اپوزیشن کو روکنے میں دکھاتی ہے، تو ایسے جرائم سرے سے ہوں ہی نہ ہوتے۔انہوں نے قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دلت مظالم کے معاملات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دو ہزار بائیس کے بعد حکومت دلت مظالم کا تازہ ڈیٹا عوام کے سامنے لانے سے گریز کر رہی ہے، جو شفافیت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔
راجندر گوتم نے مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا سارا دھیان انتخابات، اقتدار اور سیاسی فائدے پر مرکوز ہے، جبکہ کمزور طبقات کے تحفظ کے آئینی فرائض کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا شہریوں کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی جانب سے مظاہروں پر پابندیاں عائد کرنا آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذات اور مذہب سے بالاتر ہو کر قانون کو یکساں طور پر نافذ کیا جائے اور دلت مظالم کے معاملات میں فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
امریکی فوجی اڈوں کے خاتمہ سے عالمی توانائی کا تحفظ ممکن:ایران
ایران کی طاقتور’مسلم بلاک‘ بنانے کی تجویز
زیلنسکی نے روسی تنصیبات کیخلاف حملوں کا حکم دے دیا
آبنائے ہرمز کو کسی ایک ملک کی ملکیت کے طور پر قبول نہیں کرینگے: امریکی وزیر خارجہ
طالبان کو تسلیم کرتے ہیں،نہ ان کیساتھ تعلقات معمول پر لائے ہیں: جرمنی
آئزنکوٹ نے نیتن یاہو کو پیچھے چھوڑ دیا
ایپسٹن نے بلیک میل کی کوشش کی، بل گیٹس کا حلفیہ بیان
حکومت -تجارتی ایل پی جی کی سپلائی بحران سے پہلے کی سطح پر بحال
ایم پی میں تعزیہ جلوس بجلی کی تار سے ٹکرا گیا، 3 ہلاک، 10 زخمی
ایودھیا رام مندر میں چوری ‘ 6 گرفتار










