15اگست سے قبل دہشت گردانہ منصوبوں کو ناکام بنایا گیا

15اگست سے قبل دہشت گردانہ منصوبوں کو ناکام بنایا گیا

آئی ایس آئی سے منسلک دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کیا گیا/وزیرداخلہ امیت شاہ

سرینگر// مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مودی حکومت نے یوم آزادی سے قبل آئی ایس آئی سے مبینہ طور پر منسلک شہزاد بھٹی دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے اس کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا اور 200 سے زائد مبینہ آپریٹو کو گرفتار کیا گیا۔امیت شاہ کے مطابق ملک کی سکیورٹی ایجنسیوں نے مربوط کارروائی کے دوران 14 ریاستوں میں مختلف مقامات پر بیک وقت آپریشن انجام دیے، جس کے نتیجے میں مذکورہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو بڑا دھچکا پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی دہشت گردی کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور دیگر مشتبہ مواد بھی برآمد کیا گیا۔ برآمد شدہ اشیا میں (IEDs)، پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی مارکنگ والے مبینہ طور پر دستیاب گرینیڈ، پستول، زندہ کارتوس اور CCTV کیمرے شامل ہیں۔امیت شاہ کے مطابق یہ کارروائی یوم آزادی کی تقریبات سے قبل اس لیے بھی اہم تھی کیونکہ مبینہ نیٹ ورک ملک میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں نیٹ ورک کے کئی اہم ارکان کو گرفتار کیا گیا اور اس کی سرگرمیوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ مبینہ طور پر آئی ایس آئی کی مالی معاونت سے چلنے والا یہ نیٹ ورک ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم تھا اور مزید تخریبی کارروائیاں انجام دینے کی کوشش کررہا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے مختلف ریاستوں میں معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے نیٹ ورک سے وابستہ افراد کو حراست میں لیا۔انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں بیک وقت کی گئی کارروائیوں نے نیٹ ورک کے رابطوں اور اس کے مبینہ آپریشنل ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق کارروائی کے دوران برآمد ہونے والے ہتھیار اور دیگر مواد اس معاملے کی مزید تحقیقات میں اہم شواہد ثابت ہوسکتے ہیں۔امیت شاہ نے سکیورٹی فورسز اور مختلف تحقیقاتی و انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مشترکہ کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی داخلی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور ملک مخالف سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گی اور کسی بھی نیٹ ورک کو ملک کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حکام کی جانب سے گرفتار افراد اور برآمد شدہ مواد سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ سامنے آنے کی توقع ہے۔ سکیورٹی ادارے مبینہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان، اس کے مالی ذرائع، رابطوں اور ممکنہ منصوبوں کی بھی جانچ کررہے ہیں۔