گاڑیوں میں اور لوڈنگ کے دوران کھڑا ہوکر سفر کرنے پر مجبور ، محکمہ ٹریفک اور دیگر اداروں کیلئے لمحہ فکرایہ
سرینگر // مسافر گاڑیوں میں خواتین کیلئے مختص سیٹوں کے حکمنامہ پر عملدر آمد نہ ہونے کے باعث وادی بھر خاص طور پر شہر سرینگر میں خواتین مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں گاڑیو ں میں اور لوڈ میں کھڑا سفر کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وادی بھر کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر میں بھی مسافر گاڑیوں میں خواتین کیلئے مختص سیٹوں کیلئے محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکمنامہ پر کہیں عملدر آمد نہ ہونے کے باعث خواتین کو سفر کرنے کے دوران کافی مشکلات درپیش ہوتے ہیں ۔ ٹریفک حکام مقررہ سیٹوں کی تقسیم کو یقینی بنانے کی اپنی ہدایت کو نافذ کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی خواتین اور نوجوان لڑکیوں نے نمائندئو ں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خواتین کی مخصوص نشستوں کے باوجود انہیں بھیڑ بھری پبلک ٹرانسپورٹ بسوں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے، اور ٹرانسپورٹ حکام پر سیٹ ریزرویشن قانون کو نافذ نہ کرنے کا الزام لگایا۔سرینگر کی ایک طالبہ عندلیب جان نے کہا کہ بہت سی خواتین مسافروں کو بھیڑ بھری بسوں میں اس وقت تک لٹکنا پڑتا ہے جب تک کہ کوئی بھی مرد مسافر رضاکارانہ طور پر خواتین مسافروں کو اپنی نشستیں پیش نہیں کرتا۔دیگر خواتین مسافروں نے ٹریفک حکام پر پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کی دستیابی کو یقینی نہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ ٹریفک پولیس کو قوانین پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔خواتین مسافروں کے ایک گروپ نے بتایا کہ ایک عورت کے لیے ایک مرد کو مخصوص نشست چھوڑنے کیلئے کہنا مشکل ہے، پھر بھی بہت سے لوگ رضاکارانہ طور پر سیٹ پیش کرتے ہیں، نہ صرف مخصوص نشستیں بلکہ غیر محفوظ نشستیں بھی، لیکن زیادہ تر حالات میں مردسیٹوں سے اٹھانے سے انکار کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم احکامات پر عمل درآمد نہیں کر سکتے، لیکن جب بھی ہم مرد مسافروں کو خواتین کیلئے مختص نشستیں چھوڑنے کے لیے کہتے ہیں، تو ہمیں اکثر جھگڑالو مسافروں کی طرف سے مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔










