مرکزی ادارے کی جانب سے بیروز گاری کے حوالے سے سنسنی خیز سروے رپورٹ منظرعام پر

3لاکھ 52ہزار ایمپلائیمنٹ ایکس چینچ میںرجسٹر53.3%پندرہ سے 29سال کی خواتین بیروگاری کی لپیٹ میں

سرینگر/ مرکزی زیر انتظام علاقے جموں وکشمیر میں بیروز گاری نے منفرد مقام حاصل کیاہے اور ا سکی شرح 32%تک جاپہنچی ہے جب کہ 53.3%15-29سال تک صنف نازک سے تعلق رکھنے والی تعلیم یافتہ لڑکیاں بھی بیروز گاری کی لپیٹ میں ہے ایمپلائی منٹ ایکس چینج نے ستمبر 2024تک جواعدد شامر ظاہر کئے ا سکے مطابق مرکزی زیر انتظام علاقے میں تین لاکھ 52 بیروز گار ہیں جنہیں ادارے نے رجسٹر کیاہے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق مرکزی ادارے لیبر فورس نے ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں بیروز گاری کے حوالے سے ایک سروے رپورٹ منظرعام پرلایاہے ۔سروے رپورٹ میں جموںو کشمیرکے حوالے سے سنسنی خیزانکشاف ہوا ہے کہ اس مرکزی زیر انتظام علاقے میں بے روز گاری کی شرح میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہاہے صنعتوں کاقیام بیروز گاری کے خاتمے روزگار کے مواقعے فراہم کرنے کے حوالے سے مرکزی اور جموں وکشمیر انتظامیہ کے تمام دعوے وعدے کھوکھلے ثابت ہوگئے ۔ادارے نے کہاکہ جموںو کشمیر میں53سال تک کی خواتین بیرو گار ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ گریجوکٹ پوسٹ گریجویٹ لڑکیاں 15سوسے لیکر 25سو تک کی اجرت پر کام کرنے کے لئے تیار ہے ۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ جموںو کشمیر میں روز گار کے مواقعے کم ہوتے جارہے ہے جوایک تشویش ناک عمل ہے ۔جموں وکشمیر میں ایمپلائمنٹ ایکس چینچ ادارے نے اس بات کااعتراف کیاہے کہ ان کے پاس تین لاکھ 52ہزار بیروز گار ہیں جب کہ یہ رپورٹ ستمبر 2024تک کاہے ۔ادھرماہرتعلیم ماہراقتصادیات کے مطابق جموں وکشمیر کی یونیورسٹیوں سے ہرسال پانچ سے چھ ہزار کالجوں سے دس سے پندرہ ہزار گریجویٹ پوسٹ گریجویٹ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روز گارکے متلاشی ہوا کرتے ہے ایمپلائمنٹ ایکس چینچ نے جواعداد شمار ظاہر کئے ہے وہ حقیقت سے بعید ہے ۔سرکار کوچاہئے کہ وہ صوبہ جموں اور وادی کشمیر کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروںکوہدایت کرے کہ جموں وکشمیرمیں گریجویٹ پوسٹ گریجویٹ 10+2اور میٹرک پاس بیروز گاروں کی اصل تعداد کیاہے تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آئیگی ۔پچھلے چھ برسوں سے مسلسل جموں وکشمیرمیں بیروز گاری کے حوالے سے جواعداد شمار ظاہرہورہے ہے سرکار ان سے مکر رہی ہے مگر اپنی جانب سے بھی اعداد شمار سامنے نہیں لارہی ہے کہ بیروز گار کتنے ہیں اور ہر سال کتنے بیروز گاروں کو روز گا رفراہم کیاگیاہے ۔حال ہی میں سرکار نے نئی اسامیوں کوپرُکرنے کے معاملے پرپابندی عائد کی ہے اب بیروز گاری میں اضافہ ہوگا یاکمی یہ کسی کوبتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔جموں وکشمیر بالعموم اور وادی کشمیر بالخصوص معاشی اوراقتصادی طورپرانتہائی پس ماندہ ہے یہاں کی سیاسی قیادت اقتصادی ماہرین صورتحال کوواضح طو رپرسامنے لانے میں ناکام ثابت ہورہے ہے ۔سرکار صرف بیان بازی تک اپنی کامیابی کادعویٰ کرتی ہے اداروں کی جانب سے سرکار کوغلط اعداد شما رفراہم کئے جاتے ہے اور یہی وجہ ے کہ جہاں جموں وکشمیرمیں بنیادی سہولیات کے حوالے سے لوگ حیران وپریشان ہے وہی بیروز گاری کے سلسلے میں حقائق پرمبنی اعداد شمار سامنے نہیں آ رہے یہ کسی المیہ سے کم نہیں ۔