لیفٹیننٹ گورنر نے سری نگر میں ’ نئے فوجداری قوانین‘ سے متعلق نمائش کا اِفتتاح کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے سری نگر میں ’ نئے فوجداری قوانین‘ سے متعلق نمائش کا اِفتتاح کیا

اِنصاف کے نظام میںکمزور طبقات، خواتین اور بچوں کو ترجیح دینے کیلئے خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے جموں و کشمیر پولیس پبلک سکول بمنہ سری نگر میں ’’نئے فوجداری قوانین‘‘ کے موضوع پر نمائش کا اِفتتاح کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِقتصادی جرائم وِنگ، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے طلبأ، والدین اور عام لوگوں کو بیداری پیدا کرنے اور تعلیم دینے کے اَقدام کی ستائش کی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ نمائش نئے قوانین کے بارے میں فہم پیدا کرنے اورہر فرد تک اِنصاف پہنچانے کے وسیع مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوگی۔اُنہوں نے کہا،’’تقریباً 150 برس کے بعد ہندوستان کے فوجداری انصاف کے نظام میں یکم؍ جولائی 2024ء کو ایک اہم تبدیلی آئی۔ ’بھارتیہ نیایہ سنہتا‘، ـ’بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا‘، اور ’بھارتیہ ساکشیا ادھینیم‘ کو نوآبادیاتی دور کے قوانین کی جگہ پورے ملک میںعملایا گیا تاکہ قانونی نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’تینوں نئے فوجداری قوانین نے ہمارے فوجداری نظام اِنصاف کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے جس سے یہ متاثرہ پر مرکوز اور سزا سے زیادہ اِنصاف پر مبنی ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ یہ قوانین ہندوستان کے اِجتماعی نظریۂ انصاف کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان قوانین کا اصل مقصد خواتین اور سماج کے کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنا اور بااِختیار بنانا ہے۔ اِنصاف کے نظام میں خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کو ترجیح دینے کے لئے خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اِنفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور لیگل سروسز اَتھارٹی کے اِشتراک سے عوامی بیداری کیمپوں کا اِنعقاد جاری رکھیں۔ اُنہوں نے تمام سطحوں پر صلاحیت سازی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے کہا،’’آزادی کے بعد پہلی بار دہشت گردی کو فوجداری انصاف کے نظام میں باقاعدہ طور پر متعین کیا گیا ہے۔ نئے فوجداری قوانین ملک کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو مزید مضبوط کریں گے۔‘‘اِس موقعہ پر ڈِی جی پی نلین پربھات،سپیشل ڈِی جی کوآرڈی نیشن پی ایچ کیو ایس جے ایم گیلانی، آئی جی پی کشمیر ودھی کمار بردی، آئی جی پی سیکورٹی جموں وکشمیر سوجیت کمار، صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، پولیس اور سول اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران، سول سوسائٹی کے اراکین، اَساتذہ اور بڑی تعداد میں طلاب موجود تھے۔