خواتین آنے والے پنچایتی اور شہری بلدیاتی انتخابات میں تبدیلی کے اہم کارندوں کے طور پر ابھریں/ ڈاکٹر فاروق
سرینگر // عمر عبداللہ کی قیادت میں موجودہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور معاشرے میں ان کے جائز مقام کو یقینی بنانے کے اپنے عزم میں اٹل ہے کی بات کرتے ہوئے صدر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے خواتین سے کہا کہ وہ جموں و کشمیر میں آنے والے پنچایتی اور شہری بلدیاتی انتخابات میں تبدیلی کے اہم کارندوں کے طور پر ابھریں۔سی این آئی کے مطابق جموں کے ضلع کٹھوعہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر میں آنے والے پنچایتی اور شہری بلدیاتی انتخابات میں تبدیلی کے خواتین کے آگے بڑھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان انتخابات کیلئے کمربستہ رہنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ “خواتین کا جمہوری عمل میں فعال شرکت کے ذریعے ہمارے خطے کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنا بہت ضروری ہے۔نیشنل کانفرنس کے پاس خواتین کو بااختیار بنانے کو ترجیح دینے کی میراث ہے، اور ہم اس روایت کو اور بھی زیادہ عزم کے ساتھ جاری رکھیں گے۔‘‘جموں و کشمیر کی سماجی و سیاسی تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والی اور خواتین کی خواندگی اور پسماندہ طبقوں کو بااختیار بنانے کی وکالت کرنے والی مادر مہربان بیگم اکبر جہاں کی ناقابل یقین شراکت کو اُجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی ایک قابل فخر تاریخ ہے۔ خواتین کے پس منظر سے قطع نظرکی ان کی حمایت کرنا اس جماعت کا شیوا رہاہے۔عمر عبداللہ کی قیادت میں موجودہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور معاشرے میں ان کے جائز مقام کو یقینی بنانے کے اپنے عزم میں اٹل ہے۔نیشنل کانفرنس ہمیشہ سے ہی خواتین کے حقوق کی پرزور حمایت کرتی رہی ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کی شمولیت اور نمائندگی کو ترجیح دیتی رہے گی۔یہ ضروری ہے کہ ہم مادر مہربان جیسی خواتین کی کامیابیوں کو تسلیم کریں اور ان کا جشن منائیں اور سب کے لئے ایک زیادہ مساوی اور جامع معاشرے کے لئے کام کرتے رہیں۔نیشنل کانفرنس خواتین کی حمایت اور انہیں بااختیار بنانے کے اپنے عزم میں مضبوطی سے کھڑی ہے، اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ ان کے مقصد کو آگے بڑھاتی رہے گی۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کیلئے ابھی سے تیاری شروع کردیں اور باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور عوامی ساکھ کے حامل نمائندوں کو ہی آگے لائیں۔










