جموں//ایک متحرک ، ذمہ دار ، مؤثر اور عوام دوست بجلی محکمہ حکومت کا مقصد ہے ۔اِس بات کا اِظہارچیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے جموںوکشمیر میں پاور سیکٹر کا جائزہ لینے کے ایک میٹنگ کی صدارت کرنے کے دوران کیا ۔میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ روہت کنسل ، ایم ڈی جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹیڈ شیو تیال ،ایم ڈی کشمیر پاور ڈسٹربیوشن کارپوریشن لمٹیڈ بشارت قیوم اور جموںوکشمیر دونوں کارپوریشنوں کے مختلف وِنگوں کے چیف اِنجینئران اور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ 2360.27 کروڑ روپے کی لاگت سے 264 کام اس برس مکمل ہونے والے ہیں۔یہ اَب تک کسی ایک سال میںمکمل ہونے والے کاموں کی سب سے زیادہ ہے۔تقسیمی شعبے میں کے پی ڈی سی ایل اور جے پی ڈی سی ایل پہلے ہی بالترتیب 35اور 44 منصوبے مکمل کرچکے ہیں اور اِس مالی سال کے اختتام تک 23سے 46اِضافی منصوبے مکمل کریں گے ۔ یہ تمام منصوبے 1160.73کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جارہے ہیں۔آئی پی ڈی ایس اور پی ایم ڈی پی ( یو ) سکیموں کے تحت 1294ایم وی اے کی گنجائش کو شامل کرنے کے لئے 3621 ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر نصب کئے گئے ،864 سی کے ایم ایچ ٹی لائنیں اور 2,482 سی کے ایم ایل ٹی لائنیں بچھائی گئیں۔اِسی طرح دیہی علاقوں میں ڈی ڈی یو جی وائی جے اور پی ایم ڈی پی ( آر ) سکیموں کے تحت 587 ایم وی اے کی گنجائش کو شامل کرنے کے لئے 2,854 ڈسٹر بیوشن ٹرانسفارمر نصب کئے گئے 1524 سی کے ایم ایچ ٹی لائنیں اور 3050 سی کے ایم ایل ٹی لائنیں بچھائی گئیں۔مزید بتایا گیا کہ جموں و کشمیر نے 2 سال کی مدت میں موجودہ 8394 ایم وی اے میں 3806 ایم وی اے کے اضافے کے ساتھ تبدیلی کی صلاحیت میں 150 فیصد کی نمایاں اضافہ دیکھنے کوملا ہے۔ جبکہ2021-22 کے دوران 132 کے وی کی سطح پر ٹرانسمیشن کی صلاحیت میں 305 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اسی عرصے میں 220 کے وی سطح کی صلاحیتوں میں 398 فیصد اضافہ ہوا۔مزید برآں، محکمہ نے سخت عمل آوری اور بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ گذشتہ کچھ مہینوں میں 5434 معائنہ کئے جس کے نتیجے میں 41781 کنکشن منقطع ہوئے، 2276 کنکشن ریگولرائز ہوئے۔ اس کے بعد محکمہ نے جرمانے اور فیس کے طور پر 44.38 کروڑ روپے کی وصولی کی۔چیف سیکرٹری نے محکمہ سے کہا کہ وہ پری پیڈ/سمارٹ میٹروں کی تیزی سے تنصیب اور نان میٹر والے علاقوں کی ترجیحی میٹرنگ کے ذریعے معائینہ مہم کو تیز کریں اوربلنگ کی کارکردگی کو بڑھانے پر توجہ دیں۔ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے سمارٹ میٹروں اور ایریل بنچڈ کیبلوں کی وقتی تنصیب کے ذریعے AT&C کے نقصانات کو 25% سے کم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے محکمہ سے کہا کہ وہ دونوںدارالخلافائی شہروں اور بڑے قصبوں میں 8 لاکھ میٹروں کی تنصیب کے لئے حکمت عملی تیار کرے اور میٹروں کوچوبیس گھنٹے قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔محکمہ سے کہا گیا کہ وہ عوامی شکایات کا فوری اور مؤثر ازالہ کرے۔ چیف سکریٹری نے محکمے کی چوبیس گھنٹے ہیلپ لائنوں کے ذریعے کٹوتی کے نظام الاوقات، بجلی کی خرابی اور دیگر اہم پہلوؤں کے بارے میں فوری اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔










