سرینگر / / سرینگر اور دوسرے قصبہ جات کے بازاروں میں سنڈے مارکیٹ سجے ہیں ۔خریداری میں کسی حد تک قدرے بہتری آچکی ہے تاہم جس طرح جموں وکشمیر کی تشکیل نو یعنی 5اگست 2021سے قبل سنڈے مارکیٹ میں لوگوں کی گہماگہمی کے ساتھ بالخصوص سردیوں کے ان ایام میں جم کر خریداری ہوتی تھی اس طرح کے حالات بحال نہیں ہوجاتے ہیں ۔اس کے بنیادی محرکات یہ ہیں کہ نامساعد حالات اور لاک ڈاون کی وجہ سے جو اقتصادی بدحالی کا لوگوں کو سامنا ہے اس سے وہ ابھی تک باہر آسکتے ہیں اور خریداری کی سکت نہیں رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں سنڈے مارکیٹ میں خریداری میں کمی واقع ہوئی ہے ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کی ٹیم نے سرینگر کے پولو ویوو، لال چوک اور ریگل چوک کا مشاہدہ کیا جہاں سنڈے مارکیٹ سجے ہوئے تھے اور چھاپڑی فروش اور ریڈی والے گرم ملبوسات ،بستر اور مختلف قسم کا ساز سامان رکھے ہوئے تھے لوگوں کی گہماگہمی کافی تھی لیکن اتنی خریداری دیکھنے کو نہیں ملتی تھی جتنی توقع کی جاتی ہے ۔تاہم سردیوں سے نمٹنے کیلئے لوگ مجبوراًگرم ملبوسات کی خریداری کررہے تھے ۔اس سے قبل اگر کوئی شخص مارکیٹ میں دکانوں سے کم ریٹ والی چیزیں ایک کے بجائے دو تین خریدتے تھے یا اس وقت کو غنیمت سمجھ کر خوب خریداری کرتے تھے لیکن آجکل مالی بدحالی کے باعث جہاں خریدار کودو چیزوں کی ضرورت ہے وہیں وہ ایک ہی لینے پر اکتفا کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سستے داموں میں ہی مل جائے ۔اس دوران ٹیم نے کئی چھاپڑی فروشوں اور ریڈی والوں سے بات کی جو گرم ملبوسات یا دیگر چیزوں کی خرید وفروخت کررہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ پچھلی کئی اتواروںسے آج کا سنڈے مارکیٹ قدرے بہتر رہا ۔اگر چہ لوگ زیادہ سے زیادہ خریداری نہیں کرسکتے ہیں تاہم کسی حدتک آج کا کام تسلی بخش ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج ہم خریداروں کو کچھ لیتے ہوئے دیکھتے ہیں جبکہ اس سے پہلے یعنی لاک ڈاون یا نامساعد حالات کے بعد خریدار نہیں بلکہ راہ گیر وں کی گہماگہمی ہوتی تھی جو پٹریوں پر آکر صر ف چیزوں کو شوقیہ طور ادھراُدھر کرتے تھے ۔ان کے بقول وہ اکتوبر ،نومبر اوردسمبرکے مہینوںمیں خریداری کرتے ہوئے تھکتے تھے لیکن آج ایسا بالکل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ مختلف قسم کے الگ الگ سینکڑوں ایٹم دردست رکھتے تھے لیکن خریداری نہ ہونے کے باعث امسال نیا مال لانے کے بجائے گذشتہ برسوں سے رکا پڑا مال ہی دستیاب رکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل پٹریوں پر آکر چکائو دکائو تو کرتے تھے لیکن خریدنے کی طرف ان کی توجہ نہیں ہوتی ہے اب جبکہ سردیوں سے لوگ ٹھٹھرنے لگے تو گرم ملبوسات ،بستر وغیرہ لینے پر مجبور ہوگئے اسی لئے آج خریداری لوگوں نے کی ۔تاہم مجموعی صورتحال یہ ہے کہ اقتصادی حالات ابتر ہونے کے سبب لوگ زیادہ تر خریداری کرنے سے قاصر ہیں اور جن کے پاس پہلے سے خریدے ہوئے ملبوسات یا دیگر سامان موجود ہے اور ان کو نئے لانے کی ضرورت نہیں ہے تو انہی پر گذارا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ایک طرف لوگوں کے پا س پیسے نہیں ہیں تو دوسری طرف حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں ۔کوروناوائرس کے گراف میں اتار چڑھائو کاسلسلہ بھی جاری ہے اور روز مرہ حالات بھی دگر گوں ہیں ۔اس سلسلے میں عام لوگوں کی مانگ ہے کہ سرکار توجہ دیکر لوگوں کے حالات پر توجہ مرکوز کرکے مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ عام لوگوں کی زندگی ان کے عذاب نہیں بلکہ آسان بن سکے ۔










