دوشیزہ اور نوجوان کی تلاش تیسرے روز بھی جاری
سرینگر /این این بی // رام بن اور ڈوڈہ اضلاع میں الگ الگ واقعات کے دوران چناب دریا میں چھلانگ لگانے کے بعد لاپتہ ہونے والے دو افراد کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔ نیشنل نیوز بیورو کے مطابق رام بن اور ڈوڈہ اضلاع میں الگ الگ واقعات کے دوران مبینہ طور پر چناب دریا میں چھلانگ لگانے کے بعد لاپتہ ہونے والے دو افراد جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے کی تلاش کیلئے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری رہا۔ پولیس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس ،کوئیک رسپانس ٹیم اور دیگر ریسکیو اہلکار لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔حکام کے مطابق پہلا واقعہ رام بن ضلع کے راج گڑھ تحصیل میں پیش آیا، جہاں محمد عمران ولد امتیاز احمد راتھر مبینہ طور پر ہفتے کے روز چناب دریا میں چھلانگ لگانے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس، کیو آر ٹی رام بن اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے دریا کے مختلف مقامات پر تلاش شروع کی۔حکام کے مطابق تلاش کے دوران محمد عمران کا موبائل فون دریا کے قریب ایک پتھر سے برآمد ہوا، جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوو ¿ں کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ابتدائی معلومات کے مطابق ایک مبینہ خودکشی نوٹ بھی سامنے آیا ہے، جس میں ہراسانی، مبینہ طور پر 9 لاکھ روپے سے متعلق ایک متنازع معاملے اور مالی مشکلات کا ذکر ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ تاہم پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے نوٹ کے مندرجات اور اس کی صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق محمد عمران نے واقعے سے قبل فیس بک پر بھی مبینہ طور پر کوئی پوسٹ کی تھی۔ پولیس اس سلسلے میں دستیاب معلومات اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ واقعے کے پس پردہ حالات کا تعین کیا جا سکے۔دوسرا واقعہ ڈوڈہ ضلع میں پیش آیا، جہاں 24سے 25 سالہ پریا دیوی، اہلیہ وجے کمار، ساکنہ بالوانہ، تحصیل تھاتھری مبینہ طور پر اتوار کے روز برشلّہ پل سے چناب دریا میں چھلانگ لگانے کے بعد لاپتہ ہوگئیں۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے کارروائی شروع کی اور دریا میں تلاش کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اہلکاروں کی جانب سے دریا کے مختلف حصوں، کناروں اور ممکنہ مقامات پر تلاش کی جا رہی ہے۔پولیس اور ریسکیو اداروں کی جانب سے دونوں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے، تاہم رپورٹ کے وقت تک کسی بھی شخص کا سراغ نہیں مل سکا تھا۔دونوں واقعات کے اصل حالات اور ان کے پس پردہ وجوہات فی الحال واضح نہیں ہیں۔ پولیس نے معاملات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔










