سالانہ دربار مؤ کا اعلان:30 اور 31 اکتوبر کو سرینگر کے دفاتر بند ہونگے

سالانہ دربار مؤ کا اعلان:30 اور 31 اکتوبر کو سرینگر کے دفاتر بند ہونگے

2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کام شروع، ملازمین کو فی کس 25 ہزار روپے خصوصی موو ٹی اے

سرینگر /این این بی // جموں و کشمیر حکومت نے سرمائی موسم 2026-27کیلئے سالانہ دربار مؤ کے تحت سرکاری دفاتر کی سرینگر سے جموں منتقلی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 30 اور 31 اکتوبر کو سرینگر کے دفاتر بند ہونگے جبکہ 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کام شروع ہوگا ۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق جموں کشمیر حکومت نے سالانہ دربار مؤ کے تحت دفاتر کی جموں منتقلی کا اعلان کیا ہے ۔ اس سلسلے میں جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ نے حکومتی حکم نامہ نمبر JK-1664(GAD)مورخہ 19 اکتوبر 2026 جاری کیا ہے، جس کے تحت متعلقہ سرکاری دفاتر موسم سرما کے دوران جموں سے اپنے انتظامی امور انجام دیں گے۔حکومت کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق ضمیمہ-A اور ضمیمہ-Bمیں درج دفاتر بالترتیب مکمل طور پر اور ”اِن کیمپ“ بنیادوں پر سری نگر سے جموں منتقل ہوں گے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پانچ روزہ ہفتہ رکھنے والے دفاتر 30اکتوبر 2026، جمعہ کو دفتری اوقات کے اختتام پر سری نگر میں بند ہو جائیں گے، جبکہ چھ روزہ ہفتہ رکھنے والے دفاتر 31 اکتوبر 2026، ہفتہ کو دفتری اوقات ختم ہونے کے بعد بند ہوں گے۔ تمام متعلقہ دفاتر 2نومبر 2026، بروز سوموار کو جموں میں دوبارہ کام شروع کریں گے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ ”اِن کیمپ“ بنیادوں پر منتقل ہونے والے دفاتر میں متعلقہ دفتر کی مجموعی افرادی قوت کا صرف 33 فیصد عملہ یا 10 افسران/ملازمین، جو بھی تعداد کم ہو، جموں منتقل ہوگا، البتہ اگر کسی دفتر کے بارے میں حکم نامے میں خصوصی ہدایات درج کی گئی ہوں تو ان پر عمل کیا جائے گا۔دربار مؤ کے موقع پر سرکاری ملازمین کی سری نگر سے جموں منتقلی کیلئے جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو مناسب تعداد میں اچھی حالت والی بسیں دستیاب رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ بسیں 31اکتوبر اور یکم نومبر 2026کو ملازمین کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوں گی۔حکم نامے کے مطابق بسوں کے ٹکٹ 27اکتوبر سے پیشگی جاری کیے جائیں گے، تاکہ ملازمین کو سفر کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔JKRTC کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ہر قافلے کے ساتھ ایک کرین اور دو خالی بسیں بھی روانہ کی جائیں، جبکہ ضرورت کے مطابق موبائل ورکشاپس بھی قافلے کے ہمراہ موجود رہیں گی، تاکہ راستے میں کسی گاڑی میں تکنیکی خرابی پیدا ہونے کی صورت میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔حکومت نے جموں و کشمیر پولیس کو دربار مؤ کے تحت جموں جانے والے سرکاری ملازمین کے قافلوں کو سیکورٹی اور اسکارٹ فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ قافلوں کی محفوظ اور ہموار نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ بانہال-قاضی گنڈ ٹنل اور ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ٹنل کے مقامات پر دربار موو کے قافلوں کو ترجیحی گزرگاہ فراہم کی جائے۔حکم نامے میں سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاو ¿نس کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ دربار مؤ کے تحت منتقل ہونے والے ہر ملازم کو 25ہزار روپے فی مؤ کی یکساں شرح سے اسپیشل موو ٹی اے ادا کیا جائے گا۔اس کے علاوہ حکومت نے ہدایت دی ہے کہ دربار مؤ دفاتر میں کام کرنے والے تمام ملازمین کی اکتوبر 2026 کی تنخواہ 29 اکتوبر 2026کو ہی جاری کی جائے، تاکہ ملازمین کو منتقلی کے دوران مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سرکاری دفاتر کے جموں منتقل ہونے کے بعد سرینگر میں انتظامی امور کی نگرانی کے لیے سرمائی سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔حکومت کے مطابق جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سرینگر کے سول سیکریٹریٹ میں ونٹر سیکریٹریٹ قائم کرے گا۔ اس مقصد کے لیے ہر متعلقہ محکمہ اپنے ساتھ ایک گزٹیڈ اور چار نان گزٹیڈ ملازمین کو سری نگر میں برقرار رکھے گا، تاکہ سرمائی دارالحکومت سے ضروری انتظامی امور اور عوامی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔دربار مؤ کے بعد جموں میں دفاتر کے دوبارہ کھلنے پر مختلف سرکاری اداروں کے لیے دفتری اوقات بھی مقرر کیے گئے ہیں۔سیول سیکرٹریٹ کے احاطے میں واقع سربراہانِ محکمات کے دفاتر کے اوقات صبح 9بجکر 30منٹ سے شام 5بجکر 30منٹ تک ہوں گے۔