سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس ،یوٹیوب چینلزپر غیر مستند خبروں کی اشاعت ونشریات مافیا ،تحقیقات کی ضرورت
سرینگر //عالمی سطح پر انٹرنیٹ اور فون کے ذریعے لوگوں کو کافی سہولیات میسر ہوئیں اور پوری دنیا ایک مٹھی میں آگئی ۔دنیا بھر کے انسان ایسے دوسرے سے بغیر کسی مسافت کے موبائیل فون یا انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس کے ذریعے جڑتے رہتے ہیں جو خوش آئند ہیں تاہم ان سہولیات کا ناجائزفائدہ اٹھاتے ہوئے موبائیل فون یا انٹرنیٹ کی سہولیت رکھنے والے صارفین نے اس کے ذریعے خود ساخت ادارے قائم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اب ذرایع ابلاغ کے تسلیم شدہ ان اداروں کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے جو دہائیوں سے پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میںتن دہی سے کام کرتے آئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں یہ وبابڑی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔یہاں بہت سے لوگوں نے میڈیا میں آنے کی آسان راہ نکالتے ہوئے کوئی نام دیکر یوٹیوب چینل ،فیس بُک پیج ،وٹس ایپ ،انسٹی گرام پیج کھول کر خود ساخت ادارے قائم کررکھے ہیں اور ان خود ساخت میڈیا ادارو ں کے ایڈمن یا منتظمین کے پاس قواعد وضوابط وضع نہیں کئے ہوتے ہیں وہ اپنی من مانی بنیادوں پر ا ن اداروں کو چلانے میں مصروف ہیں اس دوران وہ کسی بھی شخص کی تذلیل یا تمہید کرسکتے ہیں اور ایسی بے بنیاد خبروں کی اشاعت یا نشریات جاری رکھتے ہیں جس سے سماجی حلقوں میں خلفشار اور انتشار پیدا ہوتارہتا ہے ۔ان خبروں کی اشاعت یا نشریات کو پھیلانے کا مقصد ان کے پاس یہ ہوتا ہے کہ ان کے پیجز کو لوگ زیادہ سے زیادہ لائک کریں ،شیئر کریں اور کمنٹ بکس میں اپنے کمنٹس درج کریں جس سے ان کے پیجز کی پذیرائی ہوجائے اور سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے کمائیں ۔اب تک یہاں سوشل میڈیا کے ان خود ساخت اداروں کی وجہ سے ایسے فتنوں نے جنم لیا جن سے لوگ تذبذب کے شکار ہوگئے ۔حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ آجکل کوئی بھی شخص ایک دوسرے کے ساتھ فون پر بات کرنے سے بھی کترارہتا ہے کیونکہ فون ٹیپ ہونے کا ہر کسی کو اندیشہ رہتا ہے اور اب تک ایسے معاملات سامنے آئے جس سے رشتے اور رابطے متاثر ہوئے ۔اس حوالے سے متحدہ عرب امارات نے کئی ماہ قبل ایک مثالی فیصلہ لیتے ہوئے فون ٹیپ کرنے والوں کیلئے سزائیں مقرر کردی گئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ بلااجازت ٹیلی فون سننااور تفصیلات تک رسائی قابل سزا جرم سمجھاجائے گا ۔عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر فون ٹیپ کرنے پر قید اور جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے ۔اس طرح سے کئی ممالک نے فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کو سنجیدہ لیتے ہوئے قانونی اہداف مقرر کرنے کی ٹھان لی ہے لیکن بھارت بالخصوص جموں وکشمیر میں سوشل میڈیا کے خود ساخت اداروں کی بھرمارہے ل کیونکہ یہاں ان اداروں کو بے لگام چھوڑدیا گیا ہے جس طرح وہ چاہتے ہیں اپنی مرضی کے مطابق کوئی بھی خبر ترسیل کرتے رہتے ہیں۔اس سلسلے میں وادی سے مختلف سماجی ،سیاسی شخصیات اور صحافیوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ خود ساخت فیس بُک ،انسٹی گرام یا وٹس ایپ پیجزاور یوٹیوب چینلز سے حقیقی میڈیا کی بھی شبیہ خراب ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ذرایع ابلاغ کی رجسٹریشن کیلئے قواعد وضوابط وضع ہیں اور تسلیم شدہ میڈیا ادارے محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ کے علاوہ سرکار کی مختلف ایجنسیوں کے پاس جواب دہ ہیں لیکن خود ساخت صحافیوں کو بے لگام کیوں چھوڑا جارہا ہے ؟ان کو اس طرح کی اشاعت یا نشریا ت کی اجازت کیوں دی جارہی ہے ؟اس سلسلے میں انہوں نے گورنرانتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان خود ساخت فیس بُک پیجز اور یوٹیوب چینلز کی سنجیدہ نوٹس لی جائے تاکہ میڈیا کی حقیقی ساخت برقرار رہ سکے ۔










