حکومت کے پاس حد بندی سے متعلق کوئی نیا منصوبہ ہے تو

حکومت کے پاس حد بندی سے متعلق کوئی نیا منصوبہ ہے تو

کل جماعتی اجلاس بلا کر اس پر بات چیت کی جائے،حکومت خبروں کی تشہیر اور ”نیوز پلانٹیشن“ سے باز آئیں / جے رام رمیش

سرینگر /این این بی // کانگریس نے حد بندی کے معاملے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر مودی حکومت کے پاس نئی حد بندی سے متعلق کوئی ٹھوس تجویز موجود ہے تو اسے واضح طور پر سامنے لایا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں کل جماعتی اجلاس بلا کر اس پر بات چیت کی جائے۔نیشنل نیوز بیورو کے مطابق کانگریس کے جنرل سیکرٹری جے رام رمیش نے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو کے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے خط کے جواب میں شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ حکومت آخر حد بندی کے معاملے پر کل جماعتی اجلاس بلانے سے مسلسل گریز کیوں کر رہی ہے۔جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کو خبروں کی تشہیر اور مبینہ طور پر ”نیوز پلانٹیشن“ کرنے کے بجائے یہ واضح کرنا چاہیے کہ آیا اس کے پاس حد بندی کے سلسلے میں کوئی نئی اور حتمی تجویز موجود ہے یا نہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا مودی حکومت نے حد بندی کے حوالے سے کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی نئی تجویز زیر بحث لائی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کی تفصیلات تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے شفاف انداز میں کیوں نہیں رکھی جا رہیں؟کانگریس رہنما نے حکومت سے دوسرا سوال کیا کہ وہ حد بندی کے مسئلے پر کل جماعتی اجلاس بلانے سے ”ضدی طور پر“ کیوں انکار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اپنی نئی تجویز کو شفاف طریقے سے تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے پیش کرے اور اجتماعی فورم پر ان کے خیالات سنے۔انہوں نے تیسرا سوال یہ اٹھایا کہ کیا حکومت پہلے مسترد کیے جا چکے بل کو دوبارہ پارلیمنٹ میں لانے اور اسے دو تہائی اکثریت کے ذریعے منظور کرانے کی کوشش کرنا چاہتی ہے۔جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ اگر ایسا کوئی قدم دوبارہ اٹھایا گیا تو اس کی کامیابی کے امکانات نہیں ہوں گے اور کوشش ایک مرتبہ پھر ناکام ہو جائے گی۔رمیش نے کرن رججو کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے مارچ 2026 میں حد بندی کے معاملے پر بعض سیاسی جماعتوں کے ساتھ مبینہ طور پر ”منتخب مشاورت“ کی تھی، تاہم ان مشاورتوں کے دوران کیے گئے مبینہ وعدے آئینی ترمیمی بل میں شامل نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ یہ بل 16 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں پیش ہوا تھا اور 17 اپریل کو اسے ایوان میں فیصلہ کن طور پر مسترد کر دیا گیا۔ رمیش کے مطابق، جن سیاسی جماعتوں سے حکومت نے مبینہ طور پر مشاورت کی تھی، ان میں سے بیشتر نے بھی بل کے خلاف ووٹ دیا تھا۔کانگریس رہنما نے کہا کہ حکومت کو اس حقیقت کا بھی جواب دینا چاہیے کہ مشاورت کے دوران کیے گئے مبینہ وعدے آخر کار آئینی ترمیمی بل کا حصہ کیوں نہیں بنائے گئے۔