کم عمر بچے ، بیوائوں،بے سہارائوںاور مطلقہ اَفراد کو فیملی راشن کارڈ میں شامل کیا جائے گا۔ستیش شرما
سری نگر// محکمہ خوراک ، شہری رسدات و اَمورِ صارفین نے جموںوکشمیرمیں غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے عوامی تقسیم کاری نظام ( پی ڈِی ایس)کے تحت شمولیت کے اَقدامات کو بہتر بنایاہے۔ یہ معلومات وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امور صارفین، ٹرانسپورٹ، سائنس و ٹیکنالوجی، اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، امورِ نوجوان و کھیل کود اور اے آر آئی اینڈ ٹریننگز ستیش شرما نے آج میڈیا اَفرادسے بات چیت کرتے ہوئے دی۔ وزیر موصوف نے کہا،’’2024کے گورنمنٹ آڈر نمبر 47۔جے کے(ایف سی ایس اینڈ سی اے) کے مطابق نئی ہدایت میں چھ برس اور اس سے زائد عمر کے بچوں کو فیملی راشن کارڈ میں شامل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ان بچوں کو موجودہ رہنما خطوط کے مطابق متعلقہ زُمروں جیسے انتودیا انا یوجنا (اے اے وائی)، ترجیحی گھریلو (پی ایچ ایچ)، غیر ترجیحی گھریلو (این پی ایچ ایچ)یا اخراج میں شامل کیا جائے گا۔‘‘اُنہوںنے مزید کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ کوئی بھی مستحق شہری محروم نہ رہ جائے، محکمہ ایف سی ایس اینڈ سی اے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پی ڈِی ایس کے فریم ورک میں پہلے سے چھوڑے گئے اہل مستفید کی شناخت اور اُن کو شامل کرنے کے لئے قائم کردہ اَصولوں کی پابندی کریں۔وزیر نے کہا،’’اس حکمنامے کی ایک قابل ذکر شق بیوہ اور مطلقہ خواتین کو شامل کرنے سے متعلق ہے جو پہلے نظام کے تحت شامل نہیں تھیں۔ محکمہ کو مطلع کرنے کے بعد ایسے اَفراد اَپنی مالی حیثیت اور نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ (این ایف ایس اے) کے تحت اہلیت کی بنیاد پرالگ الگ راشن کارڈ جاری کرنے کے اہل ہوں گے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ اَقدام حکومت کے اس عزم کی توثیق کرتا ہے کہ کمزور طبقوں کو خوراک اور ضروری اشیأ تک مساوی رَسائی فراہم کی جائے۔










