این پی ایس ملازمین تنخواہوں سے محروم//ا یمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹو کمیٹی
سرینگر///ملازمین کے مشترکہ پلیٹ فارم جموں کشمیر ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹو کمیٹی نے’ این پی ایس‘ ملازمین کو تنخواہوں سے محروم رکھنے اور جی پی فنڈ کی عدم واگزاری کو ملازمین کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے عارضی ملازمین کی مستقلی تک انہیں کم از کم مشاہرے کے قانون میں لانے کا مطالبہ کیا۔م جموں کشمیر ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹو کمیٹی کے سربراہ اعجاز احمد خان نے کہا کہ نئی پنشن اسکیم کے تحت تعینات ملازمین کو مسلسل تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہے،جس کے نتیجے میں انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہی ان ملازمین کو نئی اسکیم میں شامل کرکے انہیں ذہنی طور پر مفلوج کیا گیا اور اب ماہانہ تنخواہوں کی واگزاری میں بھی لعت و لعل کیا جا رہا ہے،جس کی وجہ سے انکے گھرئوں کے چولہے بھی ٹھنڈے ہوچکے ہیں اور انکے بچے نان شبینہ کو ترس رہے ہیں۔ اعجاز احمد خان نے فوری طور پر این پی ایس کے تحت تعینات ملازمین کی واجب الادا تنخواہوں کو واگزار کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے گزشتہ6ماہ سے جی فی فنڈ اور سبکدوش ہوئے ملازمین کے پنشن مرعات کی عدم واگزاری کو بھی تشویش کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بعد جون کے بعد تمام دستاویزات اور فائلوں کو زیر التواء رکھا گیا ہے۔ اعجاز احمد خان نے کہا کہ جی پی فنڈ ملازمین کا اپنا سرمایہ ہوتا ہے اورملازمین اس کو وقت ضرورت کیلئے جمع کرتے ہیں تاہم جب انہیں وقت پر یہ رقومات واگزار نہیں ہوتے تو ان کی امید بھی مر جاتی ہیں اور وہ دفاتر کا طواف کرکے دربدر ہوتے ہیں۔جموں کشمیر ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹو کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ سبکدوش ہوئے ملازمین کے پنشن مرعات کو بھی التیواء میں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے عمر بھر عوامی خدمات کرنے والے ملازمین کو عمر کی اس دہلیز پر پہنچنے کے بعد ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر لگوائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے جی پی فنڈ اور پنشن مرعات کو فوری طور پر واگزار کرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کئی ایک سبکدوش ہوئے ملازمین مختلف عارضوں میں مبتلا ہیں اور بیرون ریاست اپنا علاج کرانا چاہتے ہیں تاہم رقومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ یہ قدم اٹھانے سے رہ گئے ہیں۔ عارضی ملازمین کی مستقلی میں طوالت کو ان ملازمین کے ساتھ نا انصافی قرار دیتے ہوئے اعجاز خان نے کہا کہ جب تک60ہزار کے قریب ان ملازمین کو سمتقل کیا جاتا ہے تب تک دیگر ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام خطوں کی طرز پر ان کو کم از کم مشاہرے کے قانون میں لایا جائے تاکہ یہ ملازمین بھی اچھی طرح سے اپنی زندگی گزار سکیں اور اپنے بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیم سے آرستہ کرسکیں۔ اعجاز خان نے امید ظاہر کی کہ جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری ملازمین کے مسائل میں ذاتی طور پر دلچسپی لیکر انکا ازالہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری اتال ڈھلو کو مقامی مسائل اور معاملات کی بہ خوابی جانکاری ہیں اور انہوں نے ماضی میں مختلف عہدوں پر رہ کر ہمیشہ ان مسائل اور معاملات کو حل کرنے میں ترجیج دی ہے۔م جموں کشمیر ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹو کمیٹی کے سربراہ نے امید ظاہر کی کہ اب کی بار بھی چیف سیکریٹری اپنی صلاحتوں اور ملازمین دوست طرز عمل کا ثبوت پیش کرکے ملازمین کو ذہنی کوفت سے نجات دلائیں گے۔










