جموں کشمیر میں غیر متوقع موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

دریائے جہلم میں پانی کی سطح کافی نیچے درج ، گزشتہ 60 سالوں میں جموں و کشمیر نے تقریباً 30 فیصد گلئشیر وں کو کھو دیا

سرینگر // جموں کشمیر میں غیر متوقع موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جس پر ماہرین میں بھی تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے ۔ بدلتے موسمی صورتحال سے دریائے جہلم میں پانی کی سطح کافی نیچے درج کی گئی ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمی صورتحال میں غیر متوقع تبدیلی آتی رہی تو اس صدی کے آخر تک ہمالیائی گلئشیر جو پانی سپلائی کرنے کا اہم ذریعہ ہے 70فیصدی تک کم ہو سکتی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق پیر پنچال کے آر پار غیر متوقع موسمی تبدیلی سے جہاں پہلے ہی 30فیصدی گلئشیر وں کا وجود ختم ہو چکا ہے وہیں دریائے جہلم،اس موسم میں اپنی اب تک کی سب سے کم پانی کی سطح میں سے ایک کا مشاہدہ کر رہا ہے جس نے خطے پر موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ تازہ رپورٹس کے مطابق سنگم کے مقام پر جہلم اس وقت منفی 0.75جبکہ رام منشی باغ میں3.73فٹ اور عشم میں 1.08فٹ کی سطح کے نشان پر بہہ رہا ہے ۔ یہ پیمائشیں پانی کے بہاؤ میں شدید کمی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسی طرح لدر نالہ اور رمبی آرہ نالہ بھی شدید نشیب و فراز کا سامنا کر رہے ہیں۔ محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بات کرتے ہوئے کہا’’دریائے جہلم میں زیرو بہاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ جہلم کا بنیادی ذریعہ گلئشیر س ہیں لیکن بدقسمتی سے کشمیر میں طویل خشکی کی وجہ سے یہ رونق کھو رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ جہلم خشک ہونے کی وجہ سے کشمیر بھر میں پانی کی فراہمی کی مختلف سکیمیں متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ تشویش کا باعث ہے۔ادھر ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی علامت ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں اور طویل خشکی کی وجہ سے ہوا ہے۔آزاد موسمی ماہر فیضان عارف نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا’’موجودہ خشک موسم جو کہ اکتوبر سے جاری ہے نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ درحقیقت، جہلم نے اس سیزن کے آغاز میں پہلے ہی ایک فٹ کی تاریخی کم ترین سطح ریکارڈ کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران، جموں و کشمیر نے دسمبر سے فروری کے موسم سرما کے اہم مہینوں میں معمول سے کم بارش کا تجربہ کیا ہے، جس نے دریا کو پانی فراہم کرنے والے گلیشیئرس کی بھرائی میں نمایاں طور پر رکاوٹ ڈالی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اوسط سے زیادہ درجہ حرارت اور بارش کے بے قاعدہ نمونوں کا یہ رجحان جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے خطے کی آبی سلامتی کو خطرہ ہے۔ایک اور ماہر نے کہا’’گزشتہ 60 سالوں میں جموں و کشمیر نے تقریباً 30 فیصد گلئشیر وں کو کھو دیا ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو اس صدی کے آخر تک ان میں سے 70 فیصد کم ہو جائیں گے ۔ ‘‘