جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق کی بحالی عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کیلئے اہم چیلنج

ہمیں اپنے حقوق سے محروم کر دیا گیا اور انہیں واپس لانا ہماری اولین ذمہ داری /شمیمہ فردوس

سرینگر // جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق کی بحالی عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کیلئے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کی سینئر رہنما اور ممبر اسمبلی حبہ کدل، شمیمہ فردوس نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں سے، ہمارے لوگوں کو ان گنت مسائل کا سامنا ہے ۔سی این آئی کے مطابق حلقہ انتخاب حبہ کدل کا دورہ کرنے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کی سینئر رہنما اور ممبر اسمبلی حبہ کدل، شمیمہ فردوس نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق کی بحالی عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کیلئے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے ۔ انہوں نے لوگوں، خاص طور پر علاقے کے نوجوانوں کو درپیش اہم مسائل کو حل کرنے کیلئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا’’ہمیں اپنے حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے، اور انہیں واپس لانا ہمارے اور وزیر اعلیٰ کیلئے ایک اہم چیلنج ہے۔کشمیر کے نوجوان انصاف، مواقع اور وقار کے مستحق ہیں‘‘۔انہوں نے لوگوں کی دیرینہ شکایات پر روشنی ڈالی، ان مسائل کی طرف اشارہ کیا جیسے کہ بنیادی ڈھانچے کی خرابی اور بنیادی سہولیات کی کمی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 10سالوں سے، ہمارے لوگوں کو ان گنت مسائل کا سامنا ہے ۔ ٹوٹے ہوئے نالوں اور گلیوں سے لے کر ضروری سہولیات کی کمی تک کئی سارے مسائل درپیش ہے ۔ انہوں نے حبہ کدل حلقہ میں ایک اسٹیڈیم کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ نوجوانوں نے بارہا اس طرح کی سہولت کی درخواست کی ہے۔انہوں نے کہا ’’یہاں زمین دستیاب ہے، اور ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ یہاں ایک اسٹیڈیم بنایا جائے۔ ہم نے پہلے ہی عمل شروع کر دیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ اس وعدے کو پورا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ ‘‘ بے روزگاری کے مسئلے پر، انہوں نے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی جدوجہد پر گہری تشویش کا اظہار کیا جو بے روزگار ہیں۔وزیر اعلیٰ سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوشش کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا’’وزیر اعلیٰ کو نوجوانوں کے لیے انصاف اور مواقع کو یقینی بنانے اور ہمارے لوگوں کی بے بسی کو دور کرنے کے لیے انتھک محنت کرنی چاہیے‘‘۔انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ نیشنل کانفرنس ان کی توقعات پر پورا اترنے اور ان کی شکایات کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔