سری نگر//حد بندی کمیشن نے مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کی میں90 اسمبلی حلقوں کی حد بندی میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق معلومات پرتبادلہ خیال کیلئے 20دسمبر کو نئی دہلی میں ایک اہم میٹنگ بلائی ہے۔جس میں کمیشن کی خاتون سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) رنجنا پرکاش دیسائی، چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرسمیت کمیشن کے تینوںمرکزی ممبران،جموں وکشمیرکے ریاستی الیکشن کمشنر کے کے شرمااورتمام ایسوسی ایٹ ممبران(5ارکان لوک سبھا)کی شرکت متوقع ہے ۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق حدبندی کمیشن کی سفارشات پیش کرنے کی آخری تاریخ کے بارے میں پارلیمنٹ میں مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ کے حالیہ ریمارک سے پیدا ہونے والی مبینہ غیر یقینی صورتحال پر کئی سیاست دانوں کے ہنگامے کے بعد یہ میٹنگ بلائی گئی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرمیں 90اسمبلی حلقوںکی سرنو حدبندی کیلئے قائم کئے گئے حدبندی کمیشن نے 20دسمبرکونئی دہلی میں ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے ۔حدبندی کمیشن کی سربراہی جسٹس (ریٹائرڈ) رنجنا پرکاش دیسائی کر رہی ہیں اور اس کمیشن کی مدت کار مارچ 2022 میں ختم ہو رہی ہے جس کے بعد اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔کمیشن ھٰذا کے5 ایسوسی ایٹ ممبران میں بھاجپا سے وابستہ ممبرپارلیمنٹ ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور ممبرپارلیمنٹ جگل کشور شرما کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے3 ارکان پارلیمنٹ فاروق عبداللہ، محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی شامل ہیں۔رواں سال کے اوئل میں18 فروری کو ہونے والی پہلی میٹنگ کے بعد یہ حدبندی کمیشن کی طرف سے بلائی گئی دوسری میٹنگ ہے۔خیال رہے پہلی میٹنگ میں صرف2 بی جے پی ممبران پارلیمنٹ نے شرکت کی تھی، جبکہ3 این سی ممبران پارلیمنٹ اس بنیاد پر میٹنگ سے دور رہے کہ کمیشن ھٰذا، جموں و کشمیر تنظیم نو قانون کے تحت قائم کیا گیا تھا، جسے پارٹی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حدبندی کمیشن کشمیری پنڈتوں کو اسمبلی میں نمائندگی دینے پر غور کر سکتا ہے کیونکہ عام حالات میں کیمونٹی کیلئے اپنے نمائندے کو قانون ساز اسمبلی میں بھیجنا مشکل ہو گاجبکہ کمیشن مختلف پسماندہ ذاتوں وقبائل کیلئے بھی کچھ اسمبلی حلقوںکوبڑھانے یامخصوص ر کھے کاارادہ رکھتاہے۔آئین کی موجودہ دفعات کے تحت، اسمبلی میں صرف درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کو بالترتیب 8 اور 10 فیصد ریزرویشن حاصل ہے، جس کا مطلب ہے کہ حد بندی کے بعد مجوزہ 90 میں سے 7سیٹیں ایس سی اور نو ایس ٹی کے لیے ریزرو ہوں گی۔مجوزہ 90 نشستوں کے علاوہ، 24 خالی رہیں گی کیونکہ یہ جموں و کشمیر کے زیرکنٹرول پاکستانیمیں آتی ہیں۔سابقہ جموں و کشمیر اسمبلی کی 87 اسمبلی نشستیں تھیں جن میں سے کشمیر ڈویڑن کی 46، جموں ڈویڑن کی 37 اور لداخ کی 4 نشستیں تھیں۔










