child labour

جموں وکشمیرمیں ’بچہ مزدوری‘ ہنوز باعث تشویش،بڑا لمحہ فکریہ

2001 اور 2011 کی مردم شماری میں کمی ظاہر،2025تک بہتری کاامکان نہیں

سری نگر//بچپن انسانی زندگی کا سب سے معصوم مرحلہ ہوتا ہے۔ جب اللہ نے اسے اتنا خوبصورت بنایا ہے تو پھر ہمیں اس سے کسی قسم کا جھگڑا کرنے یاکسی بھی طرح کی زیادتی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اچھا بچپن ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔ ہر بچے کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل سکے، اسکول میں مناسب تعلیم حاصل کر سکے اور فطرت کے حسن کا تجربہ کر سکے۔چائلڈ لیبر یعنی بچہ مزدوری کی اصطلاح ایک ایسی چیز ہے جسے ہم سب اپنی ساری زندگی سنتے آئے ہیں اور اس پر کئی سالوں سے بحث ہوتی رہی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق چائلڈ لیبر بین الاقوامی سطح پر ایک سنگین مسئلہ ہے۔ چائلڈ لیبر کا مطلب ہے بچوں کو کسی بھی کاروباری سرگرمی یامحنت ومشقت کے کام میں زبردستی یا اپنی مرضی سے شامل کیاجائے ۔2001 اور 2011 کی مردم شماری میں کمی کو ظاہر کرنے کے باوجود، چائلڈ لیبریعنی بچہ مزدوری اب بھی جموں اور کشمیر میں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔نئی دہلی میں مقیم کیلاش ستیارتھی بچوں کی آبادی نے کچھ ماہ قبل اپنی شائع شدہ رپورٹ بعنوان ’’پائیدار ترقی کے ہدف (SDG) 8.7 کے مطابق ہندوستان چائلڈ لیبر کے مکمل خاتمے سے کتنا دور ہے‘‘ میں پیش قیاسی کی ہے کہ جموں و کشمیر میں سال2025تک5 سے 14سال عمر کے گروپ میں آنے والے64 ہزار26 بچے چائلڈلیبر یعنی بچہ مزدوری کی چکی میںپس رہے ہونگے۔جموں و کشمیر کو فاؤنڈیشن نے چائلڈ لیبر کے معاملے میں ملکی سطح پر تیسرے نمبر پر رکھا ہے جو موجودہ سنگین صورتحال کے بارے میں کافی اشارے دیتا ہے۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کے2025 میں اسی تیسرے نمبر پر رہنے کا امکان ہے جو کہ مزدوروں کے طور پر بچوں کی متوقع تعداد کی بنیاد پر ہے۔سال2021میں پورے ہندوستان میں چائلڈ لیبرس کی آبادی یاکل تعداد81.2 لاکھ تھی ،جو کہ ممکنہ طورپر 2025تک کم ہوکر74.3لاکھ ہوجائیگی ۔تاہم ریاستی سطح کے تخمینے سے پتہ چلتا ہے کہ 2025 تک صرف 4 ریاستوں میں ملک کے کل بچوں کا تقریباً تین پانچواں حصہ (56 فیصد) ہوگا۔ محنت اور روزگار کی وزارت ضلع مجسٹریٹ کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پروجیکٹ سوسائٹیوں کے ذریعے بچوں کے مزدوروں کی بحالی کے لیے نیشنل چائلڈ لیبر پروجیکٹ (NCLP) اسکیم کو نافذ کر رہی ہے۔ نیشنل چائلڈ لیبر پروجیکٹ اسکیم کے تحت، 9سے14 سال کی عمر کے بچوں کو کام سے بچایا جاتا ہے یاکہ کام سے واپس لیا جاتا ہے اور اُنھیںNCPLکے خصوصی تربیتی مراکز میں داخلہ لیا جاتا ہے، جہاں انہیں پل کی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، مڈ ڈے میل، رسمی تعلیمی نظام میں مرکزی دھارے میں آنے سے پہلے وظیفہ، صحت کی دیکھ بھال وغیر ہ کی سہولیت فراہم کی جاتی ہے۔ NCLP اسکیم کو اب سمگارا شکشا ابھیان (SSA) اسکیم کے تحت شامل کیا گیا ہے۔جہاں تک ’چائلڈ لیبر قوانین ‘کاتعلق ہے توحکومت نے کئی قوانین جیسے چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ لیبر پرہیبیشن ایکٹ، تعلیم کا حق ایکٹ،2010 منظور کیا ہے اور سرو شکشا ابھیان جیسی اسکیمیں نافذ کی ہیں جو اسکولوں میں بچوں کے داخلہ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔سرکاری سطح پریہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بچہ مزدوروں کی تعداد 1.25 کروڑ بمطابق مردم شماری 2001 سے کم ہو کر موجودہ تعداد 49.6 لاکھ (قومی نمونہ سروے) پر آ گئی ہے۔متذکرہ اعدادوشمار کی روشنی میں جموں وکشمیرمیں بچہ مزدوری کے مسئلے کودیکھاجائے تواس میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی ہے ،کیونکہ آج بھی جموں شہر،سری نگر شہر اورجموں وکشمیر کے سبھی ضلعی وتحاصیل صدر مقامات پرچھوٹے بچے اپنی جسمانی قوت سے زیادہ محنت ومشقت کرتے نظرآتے ہیں ،کوئی کمسن بچہ یانابالغ لڑکا ،گاڑیوں کے کسی ورکشاپ میں کام کرتا نظرآتاہے ،کوئی بچہ بھرے بازار یاسڑک کنارے چھاپڑی فروش بن کر چیزیں فروخت کرتاہے توکوئی بچہ کسی امیر کے ہاں گھریلو نوکر کاکام کرتا ہے ۔المیہ ہے کہ گھریلو معاشی بدحالی ،شفقت پدری نہ ہونے یا والدین کے بیمار ہونے کی وجہ سے جوچھوٹا سا بچہ کسی امیر کے گھرمیں کام کرتا تھا،اوراس امیر کے بچوں کواسکول جانے پرتیار کرتا ہے ،تواُس کے دل پر اُسوقت کیا گزرتی ہوگی ،جب اس امیر کے بچے اسکول روانہ ہوتے ہونگے اورگھریلو نوکر بن کر گھریلو ضروریات کوپور ا کرنے کیلئے یہ معصوم بچہ امیر کے آنگن کی صفائی کرتاہے اورکچن میں بھی کام کرتاہے ۔