گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کیلئے ماڈل ریکروٹمنٹ رولز 30 ؍ ستمبر تک نوٹیفائی کئے جائیں گے

گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کیلئے ماڈل ریکروٹمنٹ رولز 30 ؍ ستمبر تک نوٹیفائی کئے جائیں گے

سکینہ اِیتو نے ماڈل ریکروٹمنٹ رولز کی تشکیل کی پیش رفت کا جائزہ لیا

سری نگر// جموں و کشمیر کے تمام گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں نان گزیٹیڈ کیڈر کے لئے ماڈل ریکروٹمنٹ رولز (ایم آر آرز) 30 ؍ستمبر 2026 ء تک نوٹیفائی کئے جائیں گے۔یہ فیصلہ وزیربرائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو کی صدارت میں آج یہاں سول سیکرٹریٹ میں جموں وکشمیر کے نئے قائم شدہ گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے ملازمین کی جانب سے بھرتی قوانین کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کے پس منظر میں منعقدہ ایک میٹنگ میں لیا گیا۔ میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری اے آر آئی اینڈ ٹریننگز شبنم کاملی، سپیشل سیکرٹری اے آر آئی نریندر کھجوریہ، ڈائریکٹر ہیلتھ ریاض احمد، ایڈیشنل سیکرٹری صحت و طبی تعلیم انیل کمار، ڈپٹی سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر مرتضیٰ رشید اور جی ایم سی اننت ناگ و بارہمولہ کے احتجاجی ملازمین کے نمائندگان نے شرکت کی۔میٹنگ میں تجویز کردہ ریکروٹمنٹ فریم ورک پر تفصیلی بات چیت کی گئی جس کا مقصد نو تشکیل شدہ میڈیکل کالجوں اور ان سے منسلک اِداروں کے مؤثر کام کاج کے لئے درکار مختلف غیر گزیٹیڈ اَسامیوں کو پرُکرنے کے لئے ایک شفاف، یکساں اور ہموار میکانزم کو یقینی بنانا ہے۔دورانِ میٹنگ وزیر موصوفہ نے اَفسران سے خطاب کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ ریکروٹمنٹ رولز جامع، عملی اور نئے قائم کئے گئے جی ایم سیز کی فعال ضروریات کے مطابق ہونے چاہئیں۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی تال میل پر زور دیتے ہوئے ہدایت دی کہ یہ عمل مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ مطلوبہ نان گزیٹیڈ اَفرادی قوت کی بھرتی کا عمل بلاوجہ تاخیر کے بغیر آگے بڑھایا جاسکے۔سکینہ اِیتو نے اے آر آئی ٹریننگ اور محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ وہ 30 ؍ستمبر تک بھرتی کے قوانین کونوٹیفائی کریں تاکہ طبی اِداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے کیریئر کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اُنہوں نے اِداروں کے درمیان یکسانیت برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیاجبکہ یہ بھی یقینی بنانے کی ہدایت دی کہ مختلف شعبوں اور خدمات کی مخصوص اَفرادی قوت کی ضروریات کو بھی ان قواعد میں مناسب طور پر شامل کیا جائے۔وزیر موصوفہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ماڈل ریکروٹمنٹ رولز کو حتمی شکل دینے سے قبل موجودہ ریکروٹمنٹ رولز اور متعلقہ دفعات کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ اُنہوں نے اہلیت کے معیار، تعلیمی قابلیت، تجربہ، بھرتی کے طریقۂ کار، ترقی کے مواقع اور ملازمت سے متعلق دیگر امور کے بارے میں واضح دفعات شامل کرنے پر زور دیا۔اُنہوںنے کہا کہ ایک واضح اور جامع ریکروٹمنٹ فریم ورک نئے قائم کئے گئے میڈیکل کالجوںکی اِدارہ جاتی صلاحیت مضبوط بنانے اور مناسب اِنسانی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے مقررہ طریقۂ کار اور ضروری احتیاط کو برقرار رکھتے ہوئے اس عمل میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔وزیر موصوفہ نے کہا،’’ریکروٹمنٹ رولز واضح، شفاف اور ہمارے اِداروں کی حقیقی ضروریات کے مطابق ہونے چاہئیں۔ نئے قائم کئے گئے جی ایم سیز کو ایک مضبوط انسانی وسائل کے فریم ورک کی ضرورت ہے تاکہ وہ مؤثر طریقے سے کام کرسکیں اور طلبأ و مریضوں کو معیاری خدمات فراہم کرسکیں۔‘‘اُنہوں نے اَفسران کو مزید ہدایت دی کہ وہ تمام پہلوئوں کا جامع جائزہ لے کر تمام متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت کے بعد قواعد کا مسودہ تیار کیا جائے تاکہ عمل درآمد کے مرحلے میں کسی قسم کا ابہام یا طریقۂ کار سے متعلق تاخیر کی گنجائش باقی نہ رہے۔بعد مین وزیر تعلیم سکینہ اِیتو نے تمام جی ایم سیز کے احتجاجی ملازمین سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی کیوں کہ وہ جموں و کشمیر کے صحت عامہ کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی اور مضبوط ستون ہیں۔ اُنہوں نے انہیں یقین دِلایا کہ ان کے دیگر متعلقہ مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔