لداخ انتظامیہ کا پیداوار میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا عزم
سری نگر/ٰٹی ای این/ لداخ انتظامیہ نے پشمینہ کے شعبے کو مضبوط بنانے کیلئے مربوط اقدامات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پیداوار کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے، خام مال کی دستیابی بہتر بنانے، دھاگہ کاتنے اور کپڑا بْننے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی کاروباری افراد کیلئے ملک کی بڑی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔چیف سیکرٹری آشیش کندرا نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پشمینہ شعبے کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں مختلف سرکاری محکموں، شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، ایس آئی ڈی سی او، کاروباری افراد، بْنکروں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔آشیش کندرا نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ خام مال کی ادائیگیوں میں ہونے والی تاخیر کو دور کیا جائے اور ان دھاگہ کاتنے اور بْنائی کے مراکز کی نشاندہی کی جائے جنہیں جدید آلات اور تکنیکی معاونت کی ضرورت ہے۔اجلاس میں خانہ بدوش برادریوں کیلئے چراگاہوں کی ترقی اور موسم سرما کیلئے چارے کے انتظام سے متعلق منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں قدرتی چراگاہوں کو مضبوط بنانے، پتھروں کی باڑ لگانے اور مقامی حالات سے مطابقت رکھنے والی گھاس اور فصلوں کے ذریعے چارہ بینک قائم کرنے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔انتظامیہ آبپاشی محکمہ کے ساتھ مل کر چراگاہوں اور چارے سے متعلق مربوط منصوبے شروع کرنے کے امکانات بھی تلاش کرے گی۔اجلاس کے دوران کاروباری افراد نے پشمینہ کے خام مال کی زیادہ قیمت، دھاگہ کاتنے کے مہنگے عمل، کاروبار کیلئے سرمایہ کی کمی اور جدید آلات و تربیت تک محدود رسائی کو اہم مسائل قرار دیا۔چیف سیکرٹری نے پشمینہ کے دھاگے کی پیداوار بڑھانے اور معیار میں یکسانیت لانے کیلئے روایتی ہاتھ سے کاتنے اور مشین کے ذریعے کاتنے والے دھاگے، دونوں طریقوں کا جائزہ لینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید طریقوں کو اپناتے ہوئے لداخ پشمینہ کی روایتی شناخت اور خصوصیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔انتظامیہ کی جانب سے کاروباری اداروں کے لحاظ سے پشمینہ مصنوعات کی جغرافیائی شناخت یعنی جی آئی ٹیگنگ کو فروغ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے جی آئی ٹیگ حاصل کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تربیتی کیمپ بھی منعقد کیا جائے گا۔اجلاس میں لداخ پشمینہ کو قومی سطح پر فروغ دینے کیلئے نمائشوں، فیشن پروگراموں اور ڈیزائنرز کی نمائشوں میں شرکت کے علاوہ نئی دہلی میں مجوزہ شوروم قائم کرنے کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔حکام نے اس بات پر زور دیا کہ مقصد صرف پشمینہ مصنوعات کی فروخت میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ ان کیلئے مستقل اور مضبوط منڈی روابط قائم کرنا ہے، تاکہ مقامی کاروباری افراد کو طویل مدتی بنیادوں پر فائدہ حاصل ہوسکے۔چیف سیکرٹری آشیش کندرا نے کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ ڈیزائنرز اور فیشن کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے ساتھ مل کر جدید طرز کی مصنوعات تیار کریں، تاہم اس دوران لداخ پشمینہ کی منفرد شناخت اور روایتی خصوصیات کو برقرار رکھا جائے۔










