لیفٹیننٹ گورنر نے سکاسٹ جموں میں نئے اِنفراسٹرکچر اور سٹار ٹ اَپ آئوٹ ریچ پروگرام کا اِفتتاح کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے سکاسٹ جموں میں نئے اِنفراسٹرکچر اور سٹار ٹ اَپ آئوٹ ریچ پروگرام کا اِفتتاح کیا

کہا،مختلف ممالک نے اَپنے مسائل کیلئے اِختراعات کی ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ جموں وکشمیر اَپنے سوالات او رچیلنجوں کیلئے خود اختراعات کرے

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی) جموں میںکئی نئی بنیادی ڈھانچہ جاتی سہولیات کا اِفتتاح کیا۔ اُنہوں نے جے کے سی آئی پی کے تحت سٹارٹ اَپ آؤٹ ریچ پروگرام کے آغاز سے بھی خطاب کیا۔ اِس تقریب میں پورے جموںڈویژن سے محققین، اِختراع کار، نوجوان کاروباری اَفراد اور کسانوں نے شرکت کی۔نئی اِفتتاحی سہولیات میں اُنتی گرلز ہوسٹل، زرعی شعبے میں اے آئی اور ایم ایل کے لئے مرکز ، مشروم ریسرچ اور انوویشن سینٹر ، جدید ریشم کاری کی لیبارٹری اور سینٹر فار ڈیجیٹل میڈیا اور پبلشنگ سینٹر شامل ہیں۔ اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے خطاب کرتے ہوئے ان سہولیات کو محض بنیادی ڈھانچے میں اضافہ قرار دینے کے بجائے خطے کے اِختراع کاروں، کاروباری اَفراد، محققین اور کسان کنبوں کے لئے عزم سے تعبیر کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے ٹیکنالوجی سے چلنے والی زراعت کی عالمی مثالوں کی طرف توجہ دِلائی ۔اُنہوں نے نیدرلینڈز کے ایک ڈیری انوویشن ہب کا ذکر کیاجہاں سائنسدان، کمپنیاں اور کسان آرٹیفیشل اِنٹلی جنس پر مبنی غذائیت اور مویشیوں کی صحت کے حل پر مل کر کام کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اِسرائیل میں زراعت اور ڈیری شعبے میں ڈیٹا اور سمارٹ مینجمنٹ کے اِستعمال، نیوزی لینڈ میں مویشی پالن شعبے میں ڈیجیٹل پیش رفت اور برازیل کا ایک آبپاشی سٹارٹ اَپ جس نے کسان کے روزمرہ مسئلے کو ایک قابلِ توسیع حل میں بدل دیا۔ اُنہوںنے کہا کہ ان مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زراعت اور اس سے منسلک شعبے دُنیا بھر میں اِختراع کے لئے اگلا بڑا میدان ہیں۔تاہم ،اُنہوں نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ وہ محض غیر ملکی ماڈلز کی نقل نہ کریں بلکہ اَپنی زمینوں، کسانوں، آب و ہوا اور مقامی مسائل کا مطالعہ کریں اور خطے کی مخصوص ضروریات کے مطابق حل تیار کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’آج دُنیا بھر میں سٹارٹ اَپس زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں مسلسل نئے اِمکانات تلاش کر رہے ہیں۔ ان سٹارٹ اَپس اور نئی اِختراعات سے سب سے بڑا پیغام یہ ملتا ہے کہ زراعت اور اس سے منسلک شعبے خود اِختراع کے لئے اگلا بڑا میدان ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’آپ کو اپنے کھیتوں، کسانوں، آب و ہوا اور مقامی مسائل کو سمجھنا ہوگا تاکہ اپنا اگلا حل تیار کرسکیں اور جہاں مناسب ہو وہاں ان ماڈلز کو اَپنے طریقے سے مقامی ضروریات کے مطابق ڈھال سکیں۔ میرا ماننا ہے کہ مختلف ممالک نے اپنے مسائل کے لئے اِختراعات کی ہیں اور اَب وقت آگیا ہے کہ جموں و کشمیر اپنے سوالات اور چیلنجوں کے لئے خود اختراع کرے۔‘‘منوج سِنہانے ہندوستان میں روزگار سے متعلق بدلتی ہوئی ترجیحات کو بھی اُجاگر کیا اور کہا کہ آج جموں و کشمیر کے نوجوان روزگار کے اِنتظار کے بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی طرف بڑے رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی خود انحصار جموں و کشمیر کے ویژن کا ایک اہم حصہ ہے۔اُنہوں نے کہا،’’میں تمام طالب علموں سے بتاناچاہتا ہوں کہ آپ کی ڈِگری آپ کی منزل نہیں ہے بلکہ یہ آپ کی کامیابی کی پرواز کے لئے رن وے کی طرح ہے۔ سکاسٹ جموں آپ کو علم فراہم کرے گی لیکن آپ کا تجسس آپ کو نئی سوچ اور نئے خیالات دے گا۔ آپ کی ہمت اس خیال کو سٹارٹ اَپ میں بدلے گی اور اگر آپ صبر، ایمانداری اور مسلسل محنت کے ساتھ اس سٹارٹ اَپ کو آگے بڑھاتے رہیں تو ایک دن وہی سٹارٹ اَپ اُس شخص کو روزگار اور عزت فراہم کرے گاجو آج بالکل وہیں بیٹھا ہے جہاں آپ ہیں۔اِسی لئے میں اکثر کہتا ہوں کہ خود انحصار جموں و کشمیر کا اصل مطلب ایک ایسا خطہ ہے جہاں ہر نوجوان شہری اَپنی صلاحیت اور ہنر کے مطابق کسی نہ کسی شکل میں روزگار دینے والابنے۔‘‘اُنہوںنے روایتی زرعی سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر شعبے کو متنوع بنانے پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے نوجوان اور ترقی پسند کسانوں کو کولڈ چین، گریڈنگ اور پیکیجنگ یونٹوں، علاقائی برانڈنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز کے اِمکانات تلاش کرنے کی ترغیب دی تاکہ جموں و کشمیر کی زرعی پیداوار کو دہلی، دبئی اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاسکے۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کے ماحولیاتی نظام میں خواتین کی شمولیت کو اوّلین ترجیح دی جانی چاہیے۔اُنہوں نے کہا،’’خواتین کی مساوی اور فعال شرکت کے بغیر کاروباری اِنقلاب مکمل نہیں ہوسکتا۔ اور کوئی بھی معیشت اس وقت تک حقیقی معنوں میں مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک خواتین اس میں برابر کی شراکت دار نہ ہوں۔ میں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ خواتین کاروباری اِداروں میں موجود ہوں، میں چاہتا ہوں کہ کاروباری اِداروں کی قیادت خواتین کریں۔آپ کو ایسے سیلف ہیلپ گروپوں اور فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنوں کی حمایت کرنی چاہیے جنہیں مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور منڈیوں تک مساوی رَسائی حاصل ہو۔ ایسی خواتین کی تحقیق اور اِختراع کے ذریعے مدد کریں جو اَپنے کاروبار شروع کرتی ہیں اور پھر انہی کاروباروں کے ذریعے دوسری خواتین کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے سٹارٹ اَپ رسائی پروگرام کے بارے میں کہا کہ اس کا مقصد دیہات میں کسانوں اور نوجوانوں تک پہنچنا ہے جنہیں ممکن ہے کہ پہلے انکوبیشن، مینٹورنگ یا وینچر کیپٹل جیسے تصورات سے واقفیت نہ رہی ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کے سب سے مؤثر حل اکثر وہی لوگ تیار کرتے ہیں جو خود ان مسائل سے گزرے ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ سکاسٹ جموں نے اَب تک زائد اَز150 طلبأ کو آئیڈیا انکوبیشن کے لئے منتخب کیا ہے اور جموں خطے کے دُور دراز حصوں تک اَپنی رسائی کو بڑھاتے ہوئے 56 باصلاحیت سٹارٹ اَپس سپورٹ کیا ہے جبکہ جموں خطے کے دُور دراز علاقوں تک بھی اَپنی رسائی بڑھائی ہے۔اُنہوں نے اسے ایک قابل ستائش آغاز قرار دیتے ہوئے سکاسٹ جموں پر زور دیا کہ وہ ان تعداد میں اضافہ کرے اور لیبارٹریوں اور منڈیوں، سائنسدانوں اور کسانوں اور ٹیکنالوجی و زمینی سطح کی ضروریات کے درمیان ایک حقیقی پل کے طور پر اُبھرے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’سکاسٹ جموں کی حقیقی کامیابی کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جائے گا کہ یہاں سے کتنے طلبأ فارغ التحصیل ہوئے ہیں بلکہ اس کیمپس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ یہاں کتنے نئے آئیڈیاز پیدا ہوئے ، یہاں کتنے مسائل کا حل تیار کیا گیا، یہاں کتنے کاروباری اِدارے قائم ہوئے اور کتنے کاشتکار کنبوںکی زندگی میں مثبت تبدیلی آئی۔اُنہوں نے طلبأ پر زور دیا کہ وہ کیمپس میں اَپنے قیام کے دوران ہر روز چار سوالات خود سے پوچھیں۔میں کون سا مسئلہ حل کرسکتا ہوں؟،میں کون سا کاروباری اِدارہ قائم کرسکتا ہوں؟،میں زراعت میں کیا قدر شامل کرسکتا ہوں؟اورمیرے خیال سے کتنے کنبے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟۔ اُنہوں نے کہا’’اگر یہ چار سوالات مسلسل آپ کے ذہن کو مصروف رکھیں تو کوئی بھی آپ کو اپنے کیریئر کا مقصد تلاش کرنے سے نہیں روک سکتا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر کو اِختراع، زرعی کاروبار اور نوجوانوں کی قیادت کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ پہچان حاصل ہوگی۔اُنہوں نے کہا،’’اَپنے خوابوں کو چھوٹا مت بنائیں۔ اَپنے حالات کو اپنے مستقبل کی حدود نہ بننے دیں۔ اَپنی جڑوں سے طاقت، علم سے سمت اور ٹیکنالوجی سے رفتار حاصل کریں اور اَپنے عزم کے ساتھ نئی راہیں پیدا کریں۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر کو بھی اِختراع، زرعی کاروبار، سائنس، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی قیادت کے لئے پہچانا جائے گا۔‘‘اُنہوں نے آٹھ سٹارٹ اپس، ایف پی اوز اور کوآپریٹیو/دیہی کاروباری اِداروں کو زراعت اور اس سے منسلک شعبوں، ویلیو ایڈیشن اور دیہی کاروبار کی ترقی میں ان کی خدمات کے لئے اعزاز سے نوازا۔اِس موقعہ پرچار اِشاعتیں بھی جاری کی گئیںجن میںجموں و کشمیر میں دواؤں اور خوشبودار پودوں کو فروغ دینے کے لئے پالیسی دستاویز‘‘، ’’ آر کے وی وائی۔رفتار، سکاسٹ جموں کے تحت اِختراعات اور سٹارٹ اَپس کا جائزہ‘‘، ’’ویلیو آن دی وائن: سبزیوں کی اقتصادی اور مارکیٹ کی ڈائنامکس‘‘ اور ’’طلبأ کادیہی تحقیقی پروگرام (ایس آر اِی پی )‘‘ شامل ہیں۔اِس موقعہ پرایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ خزانہ شیلندر کمار،وائس چانسلر سکاسٹ جموں پروفیسر بی این ترپاٹھی، ڈائریکٹر ایکسٹینشن ڈاکٹر امریش وید، رجسٹرار سکاسٹ جموں اور فیکلٹی، سینئر حکام، طلبأ، سائنسدان، کاروباری اَفراد، سٹارٹ اَپس، ایف پی اوز، کوآپریٹیو اِ داروں اور دیگر متعلقہ شعبوں کے نمائندگان موجود تھے۔